تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی نے برطانیہ سے آئے کاروباری وفد کو یقین دلایا ہے کہ ریاست میں سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول، پالیسیوں میں تسلسل اور بڑی تعداد میں باصلاحیت افراد دستیاب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ اپنی معاشی ترقی کو تیز کرنے کے لیے مینوفیکچرنگ یعنی اشیا کی تیاری کے شعبے پر خاص توجہ دے رہا ہے۔برطانیہ کے مختلف علاقوں کے میئرز کی قیادت میں آئے ایک اعلیٰ سطحی وفد سے ملاقات کے دوران وزیر اعلیٰ نے کہا کہ تلنگانہ میں سرمایہ کاری محفوظ ہے اور ریاست عالمی معیشت میں اپنی جگہ مضبوط کرنے کے لیے تیار ہو رہی ہے۔
ساؤتھ یارکشائر کے میئر اولیور کوپارڈ، ویسٹ یارکشائر کے میئر ٹریسی برابن اور یارک اینڈ نارتھ یارکشائر کے میئر ڈیوڈ اسکیٹھ کی قیادت میں وفد نے ریونت ریڈی سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں تجارت، سرمایہ کاری، جدت طرازی، تعلیم اور ثقافت کے شعبوں میں تلنگانہ اور برطانیہ کے درمیان تعاون کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ نے کہا کہ تلنگانہ کو دنیا کی دیگر ریاستوں اور معیشتوں کے ساتھ مقابلہ کرنا ہے۔ اس مقصد کے لیے ریاست سرمایہ کاروں کو بہتر سہولتیں فراہم کرنے اور صنعتوں کے لیے سازگار ماحول تیار کرنے پر کام کر رہی ہے۔
ریونت ریڈی نے کہا کہ آنے والے چند برسوں میں تلنگانہ کی سب سے بڑی ترجیح مینوفیکچرنگ کا شعبہ ہوگا۔ ریاست چاہتی ہے کہ صنعتوں کو فروغ ملے، سرمایہ کاری میں اضافہ ہو اور معاشی ترقی کی رفتار تیز کی جا سکے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سرمایہ کاروں کے لیے پالیسیوں کا تسلسل اہم ہے۔ ریاست میں کاروبار کے لیے سازگار ماحول اور تربیت یافتہ افرادی قوت کی دستیابی صنعتوں کی ترقی میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے برطانیہ میں مقیم سرمایہ کاروں اور صنعت کاروں کو انویسٹ تلنگانہ گلوبل سمٹ 2026 میں شرکت کی دعوت دی۔ یہ سمٹ 7 سے 9 دسمبر تک بھارت فیوچر سٹی میں منعقد ہونے والی ہے۔ ریاستی حکومت کو امید ہے کہ اس سمٹ کے ذریعے عالمی سرمایہ کاروں کو تلنگانہ میں موجود کاروباری مواقع سے واقف کرایا جا سکے گا اور مختلف شعبوں میں نئے تعاون کی راہیں کھلیں گی۔ برطانوی وفد کے دورے کو تلنگانہ اور برطانیہ کے درمیان تجارتی اور صنعتی تعلقات کو مضبوط بنانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ سرمایہ کاری، صنعت، تعلیم اور جدت طرازی جیسے شعبوں میں تعاون سے دونوں فریقوں کو نئے مواقع مل سکتے ہیں۔






