Thursday, October 15, 2026 | 03 جمادى الأولى 1448
  • News
  • »
  • سیاست
  • »
  • آشوتوش رانکا اور سوربھ داس کی عدالتی حراست کے بعد سی جے پی کی حمایت میں آئے راہل گاندھی

آشوتوش رانکا اور سوربھ داس کی عدالتی حراست کے بعد سی جے پی کی حمایت میں آئے راہل گاندھی

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Md Shahbaz | Last Updated: 15 Oct 2026

آشوتوش رانکا اور سوربھ داس کی عدالتی حراست کے بعد سی جے پی کی حمایت میں آئے راہل گاندھی
کاکروچ جنتا پارٹی کے رہنماؤں آشوتوش رنکا اور سوربھ داس کو عدالتی حراست میں بھیجے جانے کے بعد کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے پارٹی کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔ اسی دوران کانگریس کی جانب سے CJP کے بانی ابھیجیت دیپکے کو راہل گاندھی کی میزبانی میں ہونے والی ایک ’ہائی ٹی‘ یعنی چائے کی تقریب میں مدعو کرنے کی کوشش بھی کی گئی، تاہم دیپکے اس تقریب میں شریک نہیں ہوئے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق، کانگریس کے اندر CJP کو لے کر پہلے سے شکوک و شبہات موجود رہے ہیں۔ پارٹی کے بعض رہنما اسے عام آدمی پارٹی سے جڑا ہوا گروپ یا اس کا ایک مہرہ سمجھتے رہے ہیں۔ ایسے میں CJP کے ساتھ رابطے کی کوشش کو کانگریس کے موقف میں تبدیلی کے اشارے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
 
رپورٹ کے مطابق، کانگریس نے منگل کی صبح CJP سے رابطہ کرنے اور اس کے رہنماؤں کو راہل گاندھی کی ہائی ٹی میں مدعو کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس سلسلے میں وکیل پرشانت بھوشن سے بھی درخواست کی گئی کہ وہ ثالث کا کردار ادا کرتے ہوئے ابھیجیت دیپکے سے رابطہ کریں۔ تاہم، دیپکے اس وقت مہاراشٹر میں تھے، جبکہ سوربھ داس اور آشوتوش رنکا پولیس کی حراست میں تھے۔ کانگریس ذرائع کے مطابق، دیپکے سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن انہوں نے اس دعوت میں کوئی خاص دلچسپی ظاہر نہیں کی اور تقریب میں شرکت نہیں کی۔
 
کاکروچ جنتا پارٹی مئی میں سوشل میڈیا پر ایک ٹرینڈ کے طور پر سامنے آئی تھی۔ بعد ازاں جون اور جولائی میں اس نے امتحانی پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے خلاف دہلی کے جنتر منتر پر احتجاجی مظاہروں کی قیادت کی۔ ان مظاہروں کے دوران امتحانی نظام اور مرکزی حکومت کی تعلیمی پالیسیوں پر سوال اٹھائے گئے۔ رپورٹ میں ان احتجاجوں کو اس سیاسی دباؤ سے بھی جوڑا گیا ہے جس کے نتیجے میں دھرمیندر پردھان کو وزیر تعلیم کے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا۔ تاہم، اس معاملے میں CJP کے کردار اور کانگریس کے اندر اس کے بارے میں پائے جانے والے شکوک اپنی جگہ برقرار ہیں۔
 
CJP نے 10 اکتوبر کو جنتر منتر پر احتجاج کا اعلان کیا تھا۔ اس سے پہلے دہلی پولیس نے پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے اور رہنماؤں آشوتوش رنکا اور سوربھ داس کو حراست میں لے لیا۔ شہر میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے اور پولیس نے بڑے پیمانے پر کارروائی کرتے ہوئے تقریباً 7,000 افراد کو حراست میں لیا۔ ان اقدامات کے باعث احتجاج اس انداز میں منعقد نہیں ہو سکا، جس کی منصوبہ بندی CJP نے کی تھی۔ رپورٹ کے مطابق، کانگریس کا اندازہ تھا کہ CJP اس مرتبہ بڑی تعداد میں لوگوں کو جمع کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی، جبکہ جون اور جولائی کے احتجاج میں لوگوں کی شرکت کی صورت حال مختلف تھی۔
 
راہل گاندھی کی جانب سے CJP کی حمایت اور ابھیجیت دیپکے کو ہائی ٹی میں مدعو کرنے کی کوشش ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پارٹی کے اندر CJP کے کردار اور اس کے سیاسی تعلقات پر اختلافات موجود ہیں۔ دیپکے کی عدم شرکت کے بعد یہ واضح نہیں ہے کہ دونوں جماعتوں کے درمیان رابطوں میں آگے کیا پیش رفت ہوگی۔ فی الحال، اس معاملے کو کانگریس اور CJP کے درمیان ممکنہ سیاسی رابطے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، لیکن اسے باضابطہ اتحاد یا مکمل حمایت کا اعلان قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔