Thursday, October 15, 2026 | 03 جمادى الأولى 1448
  • News
  • »
  • قومی
  • »
  • دہلی احتجاج معاملہ: سپریم کورٹ کا اہم بیان، کہا ہر آواز سنی جائے گی

دہلی احتجاج معاملہ: سپریم کورٹ کا اہم بیان، کہا ہر آواز سنی جائے گی

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Md Shahbaz | Last Updated: 15 Oct 2026

دہلی احتجاج معاملہ: سپریم کورٹ کا اہم بیان، کہا ہر آواز سنی جائے گی
دہلی میں حالیہ احتجاج سے متعلق مختلف درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا کہ عدالت کے سامنے ہر آواز قیمتی ہے اور ہر فریق کی بات سنی جائے گی۔ عدالت نے واضح کیا کہ معاملے سے جڑے تمام پہلوؤں پر غور کیا جائے گا۔ سماعت کے دوران عدالتی احاطے میں مظاہروں، خواتین صحافیوں کی شکایات، تاجروں کو ہونے والے نقصان اور ووٹر لسٹ میں مبینہ بے ضابطگیوں سے متعلق امور بھی اٹھائے گئے۔ سپریم کورٹ نے عدالت کے احاطے میں ہجوم کے داخل ہونے اور نعرے بازی کے معاملے پر بھی نوٹس جاری کیا ہے۔ اس سلسلے میں دائر درخواست میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ عدالتی احاطے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال ہونے سے روکا جائے۔ اس درخواست میں راہل گاندھی اور حزب اختلاف کے بعض رہنماؤں کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔ دوسری جانب، تاجروں کی مختلف تنظیموں نے احتجاج کے باعث اپنے کاروبار کو پہنچنے والے نقصان کا معاملہ عدالت کے سامنے رکھا۔ عدالت نے اشارہ دیا کہ وہ اس معاملے کے تمام پہلوؤں پر غور کرے گی۔
 
سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے پولیس کو ہدایت دی کہ ایک خاتون صحافی کے خلاف فی الحال کوئی سخت کارروائی نہ کی جائے۔ مذکورہ صحافی نے اپنے ساتھ دست درازی کی شکایت درج کرائی تھی۔ اس کے بعد ایک پولیس افسر کی جانب سے اسی صحافی کے خلاف ایس سی/ایس ٹی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیے جانے کا معاملہ بھی سامنے آیا۔ سینئر وکیل اندرا جے سنگھ نے عدالت میں دلیل دی کہ پولیس ایسے معاملے کی غیر جانبدارانہ تفتیش نہیں کر سکتی جس میں اس کے اپنے اہلکار فریق ہوں۔ انہوں نے خواتین صحافیوں کی شکایات کی تحقیقات کے لیے ایک آزاد کمیٹی تشکیل دینے کی درخواست کی، تاکہ انہیں محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔ سماعت کے دوران وکیل گورو بھاٹیہ نے الزام لگایا کہ کانگریس رہنما راہل گاندھی نے احتجاج کے دوران عدالتی احاطے میں ایک حاملہ خاتون صحافی کو دھکا دیا۔ انہوں نے عدالت سے اپیل کی کہ اس معاملے کا نوٹس لیا جائے اور صرف ایک فریق کے بیان پر انحصار نہ کیا جائے۔
 
سالیسٹر جنرل نے عدالت کو بتایا کہ حکومت مخالف فریق کی جانب سے تجویز کردہ ناموں پر مشتمل کمیٹی سے اتفاق نہیں کرتی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر متعلقہ خاتون صحافی تفتیش میں تعاون کرتی ہیں تو انہیں گرفتار نہیں کیا جائے گا۔ حکومت نے عدالت سے درخواست کی کہ کمیٹی تشکیل دینے کے بارے میں فیصلہ کرنے سے پہلے اس کے جواب کا جائزہ لیا جائے۔ اندرا جے سنگھ نے خاتون صحافی کے خلاف درج ایف آئی آر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پولیس کی کارروائی سے خواتین صحافیوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے اے سی پی وویک بھگت کی جانب سے درج کرائی گئی ایف آئی آر کے معاملے میں بھی تحفظ فراہم کرنے کی درخواست کی۔
 
سپریم کورٹ نے راہل گاندھی اور دیگر رہنماؤں کی جانب سے دائر ایک الگ درخواست پر الیکشن کمیشن کو بھی نوٹس جاری کیا ہے۔ اس درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ ووٹر لسٹ سے بڑے پیمانے پر نام حذف کیے گئے اور انتخابی فہرستوں میں بے ضابطگیاں ہوئیں۔ سالیسٹر جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ایک درخواست گزار نے مطالبہ کیا ہے کہ احتجاج کی کال دینے والی تنظیم کو اس کے نتیجے میں ہونے والے نقصان کے لیے جوابدہ ٹھہرایا جائے۔ اس پر عدالت نے کہا کہ وہ اس درخواست پر بھی نوٹس جاری کر رہی ہے۔ سماعت کے دوران عدالت کے سامنے احتجاج، شہری حقوق، خواتین صحافیوں کے تحفظ، کاروباری نقصان اور انتخابی فہرستوں سے متعلق متعدد معاملات آئے۔ عدالت نے کہا کہ تمام متعلقہ فریقوں کی بات سنی جائے گی اور معاملے کے مختلف پہلوؤں پر غور کیا جائے گا۔