بہار میں این ڈی اے کے اندر سب کچھ ٹھیک ہونے کے دعووں کے درمیان اوپیندر کشواہا کی پارٹی کے رکن اسمبلی مادھو آنند کے ایک بیان نے سیاسی حلقوں میں بحث تیز کر دی ہے۔ قانون ساز کونسل کے انتخابات کے دوران میڈیا سے بات کرتے ہوئے مادھو آنند نے پارٹی کارکنوں کی ناراضی اور قیادت کے فیصلوں پر سوال اٹھائے۔ مادھو آنند نے کہا کہ کسی بھی سیاسی جماعت کی اصل طاقت اس کے کارکن ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق حالیہ دنوں میں پارٹی کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے لیے گئے بعض فیصلوں کی وجہ سے کارکنوں میں یہ احساس پیدا ہوا ہے کہ انہیں نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وہ تقریباً نو ماہ تک صورتحال کا جائزہ لیتے رہے۔ اس دوران جب وہ اپنے حلقے اور مختلف اضلاع میں گئے تو وہاں پارٹی کارکنوں سے ملاقات ہوئی۔ مادھو آنند کے مطابق کارکنوں نے اپنے خدشات اور ناراضی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی صدر آلوک سنگھ نے بھی کئی اضلاع کا دورہ کیا اور کارکنوں سے بات چیت کی، جس کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ کارکن خود کو وہ عزت اور اہمیت نہ ملنے کی شکایت کر رہے ہیں جس کے وہ حقدار سمجھتے ہیں۔
مادھو آنند نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر کارکن ہی پارٹی سے دور ہو جائیں اور اضلاع میں تنظیم کمزور پڑ جائے تو پھر اتحاد کا کیا فائدہ رہ جاتا ہے؟ ان کے مطابق پارٹی کو مضبوط رکھنے کے لیے کارکنوں کا ساتھ اور ان کا اعتماد ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پارٹی کے چار ارکان اسمبلی ہیں اور ان میں سے ریاستی صدر آلوک سنگھ، رامیشور مہتو اور انہوں نے مل کر ایک فیصلہ کیا۔ تینوں نے ساران ٹیچرز حلقہ (Saran Teachers' Constituency) سے امیدوار رام پکار سنہا کے نامزدگی کاغذات داخل کرنے کے عمل میں شرکت کی۔ مادھو آنند نے رام پکار سنہا کو اوپیندر کشواہا کا پرانا ساتھی قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کشواہا کے سیاسی سفر میں اہم کردار ادا کیا ہے اور طویل عرصے تک ان کے ساتھ جدوجہد کی ہے۔
مادھو آنند نے کہا کہ اگر اوپیندر کشواہا نے کارکنوں کے مفاد میں یہ کہا ہوتا کہ ’’این ڈی اے میں سب کچھ ٹھیک نہیں ہے‘‘ تو اس سے کارکنوں کا حوصلہ بڑھتا۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ان کا مقصد این ڈی اے اتحاد کو کمزور کرنا نہیں ہے۔ مادھو آنند نے کہا کہ وزیراعلیٰ سمراٹ چودھری کے لیے ان کی غیر مشروط حمایت جاری رہے گی، لیکن بی جے پی کے ساتھ اتحاد اسی وقت مضبوط رہ سکتا ہے جب ان کی پارٹی کا وجود برقرار رہے اور کارکن بھی پارٹی کے ساتھ جڑے رہیں۔ مادھو آنند کے اس بیان کے بعد اب دیکھنا ہوگا کہ اوپیندر کشواہا، جے ڈی یو، بی جے پی اور این ڈی اے کی دیگر جماعتیں اس پر کیا ردعمل دیتی ہیں۔ ان کے بیان کو بہار این ڈی اے کے اندر تنظیمی سطح پر موجود اختلافات اور کارکنوں کی ناراضی کے ایک اشارے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔







