Wednesday, September 30, 2026 | 16 ربيع الآخر 1448
  • News
  • »
  • علاقائی
  • »
  • راکھی تنازع پر بی جے پی کارپوریٹر کے خلاف ایف آئی آر

راکھی تنازع پر بی جے پی کارپوریٹر کے خلاف ایف آئی آر

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: 30 Sept 2026

راکھی تنازع پر بی جے پی کارپوریٹر کے خلاف ایف آئی آر
حیدرآباد کی سری وینکٹیشور کالونی میں واقع ساگریکا انٹیگریٹڈ ہائی اسکول میں 29 ستمبر 2026 کوطلبہ سے راکھی اور دیگر مذہبی علامات ہٹانے کے معاملے پر تنازع پیدا ہوا۔ اس کے بعد بی جے پی کارپوریٹر اکولا سریوانی کے خلاف پولیس نے ایف آئی آر درج کی۔ سرور نگر پولیس نے معاملے کا ازخود یعنی سو موٹو نوٹس لیتے ہوئے یہ کاروائی کی۔
 
رپورٹس کے مطابق، اکولا سریوانی اپنے کچھ حامیوں کے ساتھ اسکول پہنچی تھیں۔ انہوں نے اسکول کے پرنسپل اور متعلقہ ٹیچر سے سوال کیا کہ طلبہ سے راکھی کیوں ہٹانے کو کہا گیا۔ اسکول کی جانب سے بتایا گیا کہ راکھی گندی ہو گئی تھی، اس لیے طلبہ سے اسے اتارنے کے لیے کہا گیا تھا۔
 
سریوانی نے الزام لگایا کہ طلبہ سے صرف راکھی ہی نہیں بلکہ بندی، ٹیکا، چوڑیاں اور دیگر ہندو مذہبی علامات بھی ہٹانے کے لیے کہا گیا تھا۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ متعلقہ ٹیچر طلبہ کو وزیر اعظم نریندر مودی، ایودھیا کے رام مندر اور بھارت کی جی ڈی پی سے متعلق باتیں بتا رہی تھیں۔
 
ٹیچر نے ان الزامات کی تردید کی۔ اس دوران سریوانی نے سوال کیا کہ اگر اسکول کے قواعد میں بندی، ٹیکا یا مذہبی چوڑی پہننے پر پابندی نہیں ہے تو طلبہ سے انہیں ہٹانے کے لیے کیوں کہا جا رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی سوال کیا کہ اگر ٹیچر حجاب پہن سکتی ہیں تو طلبہ کو مذہبی علامات پہننے سے کیوں روکا جائے۔ اس معاملے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر بھی سامنے آئی، جس کے بعد پولیس نے واقعے کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے اکولا سریوانی کے خلاف مقدمہ درج کیا۔
 
پولیس کے مطابق، سریوانی کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا (BNS) کی دفعہ 196 اور دفعہ 351 کے تحت کیس درج کیا گیا ہے۔ دفعہ 196 مختلف گروہوں کے درمیان دشمنی یا نفرت پیدا کرنے سے متعلق ہے، جبکہ دفعہ 351 مجرمانہ دھمکی سے متعلق ہے۔
 
ایف آئی آر پر ردعمل دیتے ہوئے اکولا سریوانی نے پولیس کی کاروائی پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے طلبہ کی شکایات ملنے کے بعد اسکول کا دورہ کیا تھا اور صرف ٹیچر اور انتظامیہ سے سوالات کیے تھے۔ سریوانی نے کہا کہ انہوں نے کسی مذہب پر سوال نہیں اٹھایا اور نہ ہی کوئی اشتعال انگیز تقریر کی۔ ان کے مطابق، انہوں نے صرف ٹیچر سے سوال کیا تھا اور ٹیچر نے معاملے پر معذرت بھی کی تھی۔
 
پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور واقعے سے متعلق مزید شواہد جمع کیے جا رہے ہیں۔ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد شواہد کی بنیاد پر مزید کاروائی کی جائے گی۔