کاکروچ جنتا پارٹی نے اعلان کیا ہے کہ دہلی پولیس کی جانب سے اپنے تین رہنماؤں، ابھیجیت دیپکے، سوربھ داس اور آشوتوش رانکا کو حراست میں لیے جانے کے باوجود وہ اپنا احتجاج جاری رکھے گی۔ پارٹی کے مطابق، اگر یہ رہنما حراست میں رہتے ہیں تو تنظیمی انچارج اجنکیا شنڈے جنتر منتر پراحتجاج کی قیادت کریں گے۔ سی جے پی نے اس سلسلے میں ایک ویڈیو بھی شیئر کی ہے، جس میں پارٹی نے اپنے احتجاج کو جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ یہ احتجاج چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف کیا جانا تھا۔
دہلی پولیس نے ممبئی سے آنے والی پرواز کے دہلی میں اترتے ہی ابھیجیت دیپکے، سوربھ داس اور آشوتوش رانکا کو طیارے کے اندر سے ہی حراست میں لے لیا۔ پارٹی کے مطابق، تینوں رہنما جنتر منتر پر مجوزہ احتجاج میں شرکت کے لیے دہلی پہنچے تھے۔ پارٹی کی جانب سے شیئر کی گئی ویڈیو میں ابھیجیت دیپکے کو طیارے کے اندر پولیس اہلکاروں سے یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ، ہم یہاں گرفتاری دینے آئے ہیں، آئیں اور ہمیں گرفتار کر لیں۔ CJP کا کہنا ہے کہ پولیس اہلکاروں نے رہنماؤں کو حراست میں لینے سے پہلے بتایا کہ انہیں جنتر منتر پر احتجاج کرنے کی اجازت نہیں ہے۔
دیپکے نے الزام لگایا کہ پارٹی رہنماؤں کے ساتھ ایسا برتاؤ کیا جا رہا ہے جیسے وہ مجرم ہوں۔ پارٹی نے واضح کیا ہے کہ اپنے رہنماؤں کی حراست کے باوجود احتجاج کا منصوبہ منسوخ نہیں کیا جائے گا۔ CJP کے مطابق، اجنکیا شنڈے جنتر منتر پر مجوزہ مظاہرے کی قیادت کریں گے، تاکہ پارٹی کا احتجاج جاری رہ سکے۔ پارٹی نے واضح کیا ہے کہ اپنے رہنماؤں کی حراست کے باوجود احتجاج منسوخ نہیں کیا جائے گا۔ CJP کے مطابق، تنظیمی انچارج اجنکیا شنڈے جنتر منتر پر مجوزہ مظاہرے کی قیادت کریں گے۔ وہیں دوسری ابھیجیت دیپکے کی دادی کے انتقال کی خبر نے اس معاملے میں ایک اور افسوسناک پہلو کا اضافہ کر دیا ہے۔ تاہم، دستیاب معلومات میں یہ واضح نہیں ہے کہ دیپکے کو اپنے خاندان میں پیش آنے والے اس سانحے کی اطلاع کب ملی یا وہ آخری رسومات میں شرکت کر سکیں گے یا نہیں۔







