Saturday, October 10, 2026 | 27 ربيع الآخر 1448
  • News
  • »
  • سیاست
  • »
  • گیانیش کمار کے خلاف احتجاج، ممتا بنرجی، اروند کیجریوال اور پی وجئین سمیت کئی رہنما حراست میں

گیانیش کمار کے خلاف احتجاج، ممتا بنرجی، اروند کیجریوال اور پی وجئین سمیت کئی رہنما حراست میں

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Md Shahbaz | Last Updated: 10 Oct 2026

گیانیش کمار کے خلاف احتجاج، ممتا بنرجی، اروند کیجریوال اور پی وجئین سمیت کئی رہنما حراست میں
چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف دہلی میں احتجاج کے دوران اپوزیشن جماعتوں کے کئی اہم رہنماؤں کو پولیس نے حراست میں لے لیا۔ حراست میں لیے گئے رہنماؤں میں مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی، دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال اور سی پی آئی (ایم) کے رہنما  پی وجئین سمیت کئی دیگر رہنما شامل ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں نے اس کارروائی پر سخت اعتراض کرتے ہوئے اسے جمہوری حقوق اور احتجاج کی آزادی سے جوڑا ہے۔ ممتا بنرجی کو ساؤتھ ایونیو کے قریب ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے رہنماؤں ڈیرک او برائن، ڈولا سین اور پارٹی کے دیگر ارکان کے ساتھ حراست میں لیا گیا۔ اس کے علاوہ، سی پی آئی (ایم) کے متعدد رہنماؤں کو بھی احتجاج کے دوران پولیس نے حراست میں لیا۔
 
دہلی پولیس نے کیرالہ ہاؤس کے قریب سی پی آئی (ایم) کے رہنماؤں کو اس وقت حراست میں لیا جب وہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور انتخابی فہرستوں کی اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کے خلاف احتجاج کے لیے نکلے تھے۔ حراست میں لیے گئے رہنماؤں میں کیرالہ کے وزیر اعلیٰ پنارائی وجئین، پارٹی کے جنرل سیکریٹری ایم اے بے بی اور ریاستی سیکریٹری ایم وی گووندن شامل تھے۔ پی وجئین نے فیس بک پر ایک پوسٹ میں این ڈی اے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ دہلی کو ایک کھلی جیل میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق، پولیس اور نیم فوجی دستوں کی بھاری تعیناتی کے ذریعے جمہوری آوازوں کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پی وجئین نے کہا کہ احتجاج کا مقصد عوام کے ووٹ دینے کے حق کا تحفظ کرنا ہے، کیونکہ ووٹ کا حق جمہوریت کی بنیادی بنیاد ہے۔ ان کے مطابق، انتخابی فہرستوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف آواز اٹھانا جمہوری عمل کا حصہ ہے۔
 
دہلی میں پارٹی رہنماؤں کی حراست کے بعد سی پی آئی (ایم) نے کیرالہ کے مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہرے کیے۔ کوزی کوڈ میں بیپور کے ایم ایل اے پی اے محمد ریاس کی قیادت میں سینکڑوں کارکنوں نے مارچ نکالا اور مرکزی حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔ ریاس نے کہا کہ دہلی میں پارٹی رہنماؤں کو حراست میں لینا جمہوری اقدار اور احتجاج کے حق کے خلاف ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ چیف الیکشن کمشنر کے خلاف احتجاج آنے والے دنوں میں مزید تیز کیا جائے گا۔ کنور میں پارٹی کے ضلعی سیکریٹری کے کے راگیش نے احتجاجی مارچ کی قیادت کی۔
 
کانگریس کی جنرل سیکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے بھی دہلی میں مظاہرین کے خلاف پولیس کارروائی پر تنقید کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کی قیادت میں ملک میں آمریت جیسی صورتحال پیدا کی جا رہی ہے۔ ایکس پر اپنی پوسٹ میں پرینکا گاندھی نے دعویٰ کیا کہ 254 ارکانِ پارلیمنٹ کے ساتھ بدسلوکی کی گئی اور انہیں غیر قانونی طور پر حراست میں لیا گیا، جس سے ان کے آئینی حقوق متاثر ہوئے۔ انہوں نے مزید الزام لگایا کہ دہلی میں بیریکیڈنگ، ٹرین اور میٹرو خدمات میں رکاوٹوں، انٹرنیٹ بندش اور چیک پوسٹوں کے ذریعے لوگوں کی نقل و حرکت محدود کی گئی۔