پی ڈی پی کی سربراہ محبوبہ مفتی نے دہلی میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کے معاملے پر مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے جموں و کشمیر میں دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد پیدا ہونے والے حالات کا حوالہ دیتے ہوئے الزام لگایا کہ پہلے اختلافِ رائے کو دبایا جاتا ہے اور پھر یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ کوئی احتجاج ہوا ہی نہیں۔
محبوبہ مفتی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنی پوسٹ میں دہلی کی موجودہ صورتحال کا موازنہ کشمیر میں دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد عائد پابندیوں سے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت لوگوں کو گھروں تک محدود کر دیا گیا تھا، انٹرنیٹ خدمات معطل کر دی گئی تھیں اور علاقے میں سخت سکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بعد میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے دعویٰ کیا کہ وہاں کوئی احتجاج نہیں ہوا۔
دہلی میں سکیورٹی انتظامات پر سوالات
محبوبہ مفتی نے اپنی پوسٹ میں دہلی میں سکیورٹی انتظامات اور لوگوں کی نقل و حرکت پر عائد پابندیوں پر بھی سوال اٹھائے۔ ان کے مطابق، شہر میں سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں، ٹرینوں کی آمدورفت متاثر ہوئی ہے اور جنتر منتر جانے والے راستوں کو بند کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ان حالات کے باوجود مرکزی حکومت یہ دعویٰ کر سکتی ہے کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف کوئی احتجاج نہیں ہوا۔ تاہم، یہ تمام باتیں محبوبہ مفتی کے بیان اور الزامات پر مبنی ہیں۔
خاموشی کوعوام کی رضامندی بتایا جاتا ہے
پی ڈی پی سربراہ نے کہا کہ اختلافِ رائے کو پہلے دبایا جاتا ہے اور بعد میں اس کے وجود سے ہی انکار کر دیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق، جب لوگوں کو احتجاج کا موقع نہیں دیا جاتا تو اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی خاموشی کو عوام کی رضامندی کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ محبوبہ مفتی کے یہ ریمارکس ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب دہلی میں چیف الیکشن کمشنر کے خلاف احتجاج اور مظاہرین کی نقل و حرکت سے متعلق سکیورٹی انتظامات پر بحث جاری ہے۔ اپنے بیان کے ذریعے محبوبہ مفتی نے کشمیر میں دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد عائد پابندیوں اور دہلی کی موجودہ صورتحال کے درمیان مماثلت ظاہر کی اور مرکزی حکومت کے طرزِ عمل پر سوال اٹھائے۔






