فرانس میں طلبہ کے مظاہروں کے دوران حراست میں لیے گئے نابالغوں کے ساتھ پولیس کے سلوک پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ فرانسیسی میڈیا کے رپورٹس کے مطابق کم عمر طلبہ نے جسمانی تشدد، نسلی توہین اور حراست کے دوران خراب حالات سے متعلق الزامات عائد کیے ہیں۔ بعض معاملات میں طبی دستاویزات بھی سامنے آئی ہیں، جبکہ ایک واقعے میں پولیس کے خلاف باضابطہ شکایت درج ہونے کے بعد تحقیقات شروع کیے جانے کی تصدیق کی گئی ہے۔ ان رپورٹس کے مطابق، طلبہ کو مختلف مقامات پر ان کے اسکولوں کے باہر یا گھروں سے حراست میں لیا گیا۔ متاثرہ نوجوانوں اور ان کے اہل خانہ نے الزام لگایا ہے کہ گرفتاری کے دوران طاقت کا استعمال کیا گیا اور حراست میں ان کی جسمانی و نفسیاتی حالت کا مناسب خیال نہیں رکھا گیا۔
14 سالہ لڑکی کا بیان: کیا اب تم اللہ اکبر نہیں کہہ رہی ہو؟
فرانسیسی میڈیا کے رپورٹس کے مطابق یکم اکتوبر کو ٹولوز کے قریب ایک ہائی اسکول کے باہر 14 سالہ لڑکی کو حراست میں لیا گیا۔ رپورٹ میں اس کی شناخت چھپانے کے لیے فرضی نام استعمال کیا گیا ہے۔ لڑکی اور اس کے اہل خانہ کے مطابق، طلبہ اسکول کے داخلی راستے بند کرکے احتجاج کر رہے تھے کہ اسی دوران ایک پولیس اہلکار نے لڑکی کو پکڑ کر سڑک پر گھسیٹا۔ میڈیاپارٹ کی جانب سے جاری ویڈیو میں گرفتاری کا کچھ حصہ دکھائی دیتا ہے اور ایک اہلکار کو نازیبا الفاظ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔
لڑکی کی والدہ کے مطابق، ان کی بیٹی نے بتایا کہ ایک پولیس اہلکار نے طنزیہ انداز میں پوچھا، ’’کیا اب تم اللہ اکبر نہیں کہہ رہی ہو؟‘‘ تاہم، میڈیاپارٹ نے واضح کیا کہ دستیاب ویڈیو میں یہ جملہ سنائی نہیں دیتا۔ اس کے باوجود، رپورٹ کے مطابق، لڑکی نے اگلے روز ڈاکٹر کو دیے گئے بیان میں اس واقعے کا ذکر کیا تھا۔ طبی رپورٹ میں جسم پر خراشوں، پاؤں میں چوٹ کا ذکر کیا گیا۔ رپورٹ میں شدید نفسیاتی صدمے کی علامات کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔
17 سالہ لڑکے پر نسلی توہین کا الزام
میڈیاپارٹ نے ایک 17 سالہ لڑکے کا بیان بھی شائع کیا، جسے یکم اکتوبر کو فونٹینے-سو-بوئس میں اس کے اسکول کے باہر حراست میں لیا گیا تھا۔ رپورٹ میں اسے ’جان‘ کا فرضی نام دیا گیا ہے۔ لڑکے کے مطابق، پولیس اہلکاروں نے اسے ’گندا سیاہ فام آدمی‘ اور ’گندا بندر‘ جیسے نسلی توہین آمیز الفاظ کہے۔ اس کے والد نے الزام لگایا کہ ایک اہلکار نے ان کے بیٹے کو گھونسا مارا اور لاٹھی سے ضرب لگائی، جس سے اس کی پیشانی، چہرے اور کہنی پر چوٹیں آئیں۔ رپورٹ کے مطابق، طبی معائنے میں سر درد اور چہرے و پیشانی پر چوٹوں کا ذکر کیا گیا۔ لڑکے نے یہ بھی الزام لگایا کہ اسے زمین پر دبا کر رکھا گیا اور اس کے سر یا گردن پر گھٹنا رکھا گیا۔
17 سالہ لڑکے نے پولیس پر آتش بازی کا سامان پھینکنے میں ملوث ہونے کے الزام کی تردید کی ہے۔ اس نے 7 اکتوبر کو نیشنل پولیس کے جنرل انسپکٹریٹ (IGPN) میں مبینہ تشدد اور نسلی توہین کی شکایت درج کرائی۔ کریٹیل کے پراسیکیوٹر کے دفتر نے تحقیقات شروع ہونے کی تصدیق کی ہے۔ رپورٹ میں ایک اور 16 سالہ لڑکے کا معاملہ بھی بیان کیا گیا ہے، جسے ایسون کے علاقے میں اس کے گھر سے گرفتار کیا گیا تھا۔ اسے 30 ستمبر کو جوویسی-سر-اورج کے پولیس اسٹیشن میں حراست میں رکھا گیا۔ اس کے وکیل کے مطابق، فون کا پاس کوڈ دینے سے انکار کرنے پر لڑکے کو تھپڑ مارا گیا۔ وکیل نے دعویٰ کیا کہ تقریباً 35 گھنٹے کی حراست کے دوران بھی اس کے ساتھ برا سلوک کیا گیا۔






