Saturday, October 10, 2026 | 27 ربيع الآخر 1448
  • News
  • »
  • سیاست
  • »
  • سی جے پی احتجاج سے قبل دھرو راٹھی کی گرفتاری کی اطلاعات، دہلی میں سیکیورٹی سخت

سی جے پی احتجاج سے قبل دھرو راٹھی کی گرفتاری کی اطلاعات، دہلی میں سیکیورٹی سخت

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Md Shahbaz | Last Updated: 10 Oct 2026

سی جے پی  احتجاج سے قبل دھرو راٹھی کی گرفتاری کی اطلاعات، دہلی میں سیکیورٹی سخت
دہلی کے جنتر منتر پر 10 اکتوبر کو ہونے والے کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) اور طلبہ تنظیموں کے مجوزہ احتجاج سے قبل دارالحکومت میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ احتجاج کے منتظمین چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے اور ووٹر لسٹوں کی خصوصی جامع نظرِ ثانی (SIR) کے عمل کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اسی دوران یوٹیوبر دھرو راٹھی کو گروگرام میں ان کی رہائش گاہ سے حراست میں لیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ رپورٹوں کے مطابق، دہلی پولیس نے گروگرام کے سیکٹر 56 میں واقع دھرو راٹھی کی رہائش گاہ پر کارروائی کی۔ بتایا جا رہا ہے کہ اس وقت وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ گھر پر موجود تھے۔ تاہم، ان کی حراست کی وجہ، قانونی حیثیت اور پولیس کی کارروائی سے متعلق تفصیلات کی باضابطہ تصدیق ضروری ہے۔
 
CJP اور اس سے وابستہ تنظیموں کا کہنا ہے کہ ووٹر لسٹوں کی خصوصی جامع نظرِ ثانی کے دوران مبینہ بے ضابطگیوں کے خدشات سامنے آئے ہیں۔ مظاہرین کو اندیشہ ہے کہ اس عمل کے نتیجے میں حقیقی ووٹروں کے نام فہرستوں سے خارج ہو سکتے ہیں اور ان کے حقِ رائے دہی کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اسی بنیاد پر احتجاج کے منتظمین چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے اور SIR کے عمل کو روکنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان الزامات پر انتخابی حکام کا مؤقف اور متعلقہ ریکارڈ اس معاملے کی جانچ کے لیے اہم ہوگا۔
 
احتجاج کے پیشِ نظر دہلی کے مختلف علاقوں میں پولیس کی تعیناتی بڑھا دی گئی ہے۔ اہم مقامات پر ناکہ بندی، گاڑیوں کی جانچ اور نگرانی کے انتظامات کیے گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق، پولیس اور نیم فوجی دستوں کے ہزاروں اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ دہلی پولیس نے مجوزہ احتجاج کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ پولیس کے مطابق، احتجاج کے لیے درخواست مقررہ وقت سے کم پہلے دی گئی تھی اور امن و امان برقرار رکھنے کے خدشات بھی موجود تھے۔ حکام نے نئی دہلی ضلع میں امتناعی احکامات نافذ کرنے کی اطلاع بھی دی ہے۔
 
CJP نے دعویٰ کیا ہے کہ احتجاج سے قبل ملک کی مختلف ریاستوں میں طلبہ، کسانوں، دلت تنظیموں اور سیاسی گروپوں سے وابستہ کم از کم 10 ہزار افراد کو حراست میں لیا گیا یا دہلی جانے سے روکا گیا۔ پارٹی کے مطابق، متعدد کارکنوں کو احتجاج میں شرکت کے لیے سفر کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ دوسری جانب، دہلی میں کم از کم ایک ہزار افراد کو حراست میں لیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ تاہم، ملک بھر میں 10 ہزار افراد کی حراست کے دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی ہے، اس لیے اس تعداد کو پارٹی کے دعوے کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے۔
 
احتجاج میں شرکت کے لیے پونے سے دہلی روانہ ہونے والے کم از کم 14 طلبہ کو مدھیہ پردیش کے اٹارسی ریلوے اسٹیشن پر گووا ایکسپریس سے اتارے جانے اور حراست میں لیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ ان طلبہ کا تعلق مختلف طلبہ تنظیموں سے تھا۔ رپورٹ کے مطابق، مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے حکام کو طلبہ کو 13 اکتوبر تک پیش کرنے اور ان کی بحفاظت واپسی یقینی بنانے کی ہدایت دی ہے۔ اس معاملے میں عدالتی کارروائی اور حکام کا مؤقف مزید تفصیلات واضح کرنے کے لیے اہم ہوگا۔
 
احتجاج کے پیشِ نظر دہلی میں آمد و رفت کے انتظامات بھی متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔ مختلف رپورٹوں کے مطابق، کئی میٹرو اسٹیشنوں پر داخلے اور اخراج پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں، جبکہ بعض ٹرینوں کو منسوخ کیا گیا ہے یا ان کے اوقات میں تبدیلی کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، جنپتھ اور کرتویہ پتھ کے چوراہے کے اطراف تقریباً چار کلومیٹر کے علاقے میں موبائل انٹرنیٹ خدمات عارضی طور پر معطل کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ مسافروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ سفر سے پہلے میٹرو، ریلوے اور ٹریفک سے متعلق تازہ ترین سرکاری معلومات حاصل کریں۔