کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے احتجاج کے پیشِ نظر قومی دارالحکومت دہلی میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق، دہلی کے 45 میٹرو اسٹیشنوں پر داخلے اور اخراج پر پابندی عائد کی گئی ہے، جبکہ ریلوے نے نئی دہلی، حضرت نظام الدین اور تلک برج سے متعلق 75 ٹرینوں کو منسوخ کر دیا ہے۔ بعض علاقوں میں انٹرنیٹ خدمات بھی عارضی طور پر معطل رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ احتجاج کے پیشِ نظر دو نمو بھارت اسٹیشنوں، شراب کی دکانوں اور بھاگیرتھ پیلس بازار کو بھی بند رکھنے کی اطلاعات ہیں۔ حکام کی جانب سے یہ اقدامات امن و امان برقرار رکھنے کے لیے کیے جانے کی بات کہی جا رہی ہے۔
سیکیورٹی انتظامات کے تحت وسطی دہلی میں بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا (BNSS) کی دفعہ 163 نافذ کر دی گئی ہے۔ یہ دفعہ ضابطۂ فوجداری (CrPC) کی سابقہ دفعہ 144 کے متبادل کے طور پر نافذ کی گئی تھی۔ اس کے تحت انتظامیہ ممکنہ تشدد، غیر قانونی اجتماع یا امن عامہ میں خلل کے خدشے کے پیشِ نظر عارضی پابندیاں عائد کر سکتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق، نئی دہلی میں جن پتھ ڈیوٹی کراسنگ کے اطراف تقریباً چار کلومیٹر کے علاقے میں ہفتہ کی رات 10 بجے تک انٹرنیٹ خدمات عارضی طور پر معطل رہیں گی۔ رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ دہلی میں سیکیورٹی کے لیے تقریباً 25 ہزار پولیس اور نیم فوجی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ حساس مقامات اور اہم راستوں پر نگرانی بڑھا دی گئی ہے، جبکہ ٹریفک اور آمد و رفت کو منظم کرنے کے لیے بھی اقدامات کیے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ CJP نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کا اعلان کیا تھا۔ پارٹی کی جانب سے ووٹر لسٹوں کی خصوصی نظرثانی (SIR) اور انتخابی عمل سے متعلق اعتراضات اٹھائے جا رہے ہیں، جبکہ احتجاج میں چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ بھی شامل ہے۔دہلی پولیس نے مجوزہ احتجاج کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ ایسے میں احتجاج کے دوران صورتِ حال پر نظر رکھی جا رہی ہے۔ ٹرانسپورٹ اور دیگر خدمات سے متعلق پابندیوں کے باعث دہلی میں عام شہریوں کی آمد و رفت بھی متاثر ہونے کا امکان ہے۔






