Saturday, October 10, 2026 | 27 ربيع الآخر 1448
  • News
  • »
  • قومی
  • »
  • جنتر منتر احتج: اجابھیجیت ڈِپکے، آشوتوش رانکا اور سورَو داس پولیس کی حراست میں

جنتر منتر احتج: اجابھیجیت ڈِپکے، آشوتوش رانکا اور سورَو داس پولیس کی حراست میں

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Md Shahbaz | Last Updated: 10 Oct 2026

جنتر منتر احتج: اجابھیجیت ڈِپکے، آشوتوش رانکا اور سورَو داس پولیس کی حراست میں
دہلی کے جنتر منتر پر مجوزہ احتجاج سے قبل کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے بانی ابھیجیت دیپکے اور پارٹی کے شریک کنوینرز سوربھ داس اور آشوتوش رانکا کو حراست میں لیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ دہلی پولیس نے تینوں رہنماؤں کو اندرا گاندھی انٹرنیشنل ہوائی اڈے پر پرواز سے اترنے کے بعد طیارے کے اندر ہی اپنی تحویل میں لے لیا۔ یہ رہنما الیکشن کمیشن کے خلاف منعقد ہونے والے ’جنتر منتر 2.0‘ احتجاج میں شرکت کے لیے دہلی پہنچے تھے۔  سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو  کے مطابق، ایئر انڈیا کی پرواز کے دہلی ہوائی اڈے پر اترنے اور رکنے کے بعد پولیس اہلکار طیارے میں داخل ہوئے۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اہلکاروں نے ابھیجیت دیپکے، سوربھ داس اور آشوتوش رانکا کو اپنی تحویل میں لیا اور بعد میں انہیں ہوائی اڈے سے کسی دوسری جگہ منتقل کر دیا۔
 
سی جے پی  اور اس سے وابستہ سماجی و طلبہ تنظیموں نے 10 اکتوبر کو جنتر منتر پر احتجاج کی اپیل کی تھی۔ مظاہرین ووٹر لسٹوں کی خصوصی جامع نظرِ ثانی (SIR) میں مبینہ بے ضابطگیوں، انتخابی شفافیت اور الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں (EVMs) سے متعلق خدشات پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ احتجاج کے اہم مطالبات میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کا استعفیٰ اور انتخابی عمل میں اصلاحات شامل ہیں۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ ووٹروں کے حقوق کا تحفظ اور انتخابی عمل میں شفافیت یقینی بنانا ضروری ہے۔ ان الزامات کی جانچ کے لیے متعلقہ ریکارڈ اور انتخابی حکام کا مؤقف اہم ہوگا۔
 
میڈیا رپورٹ کے مطابق، دہلی پولیس نے امن و امان سے متعلق خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے احتجاج کی اجازت دینے سے انکار کیا تھا۔ اس کے بعد جنتر منتر اور آس پاس کے علاقوں میں سیکیورٹی بڑھا دی گئی اور مظاہرین کو جمع ہونے سے روکنے کے لیے رکاوٹیں لگائی گئیں۔ یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ CJP کی قانونی امور کی سربراہ رتنا سنگھ اور یوٹیوبر دھرو راٹھی سمیت دیگر شخصیات کو احتیاطی طور پر حراست میں لیا گیا ہے۔ تاہم، ان افراد کی حراست اور اس کی وجوہات کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔
 
CJP کارکنوں نے سوشل میڈیا پر جاری پیغامات میں مبینہ کارروائی پر اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ پرامن احتجاج جمہوری حق ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ احتجاج میں شرکت کے لیے آنے والے رہنماؤں کو اس طرح روکنا شہری آزادیوں اور اختلافِ رائے کے حق سے متعلق سوالات پیدا کرتا ہے۔ فی الحال، فراہم کردہ معلومات میں پولیس کی جانب سے حراست میں لیے گئے رہنماؤں کے مقام، ان کے خلاف کسی مقدمے یا ممکنہ رہائی کے بارے میں واضح تفصیلات موجود نہیں ہیں۔ پولیس کا باضابطہ بیان سامنے آنے کے بعد ہی اس کارروائی کی وجوہات اور قانونی حیثیت کے بارے میں مزید وضاحت ہو سکے گی۔