Saturday, October 10, 2026 | 27 ربيع الآخر 1448
  • News
  • »
  • تعلیم و روزگار
  • »
  • عمر خالد کو 2026 کے فرنٹ لائن ڈیفنڈرز ایوارڈ کے لیے کیا گیا منتخب

عمر خالد کو 2026 کے فرنٹ لائن ڈیفنڈرز ایوارڈ کے لیے کیا گیا منتخب

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Md Shahbaz | Last Updated: 10 Oct 2026

عمر خالد کو 2026 کے فرنٹ لائن ڈیفنڈرز ایوارڈ کے لیے کیا گیا منتخب
عمر خالد کو 2026 کے فرنٹ لائن ڈیفنڈرز ایوارڈ سے نوازنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ وہ گزشتہ کئی برسوں سے جیل میں ہیں اور ان پر 2020 کے شمال مشرقی دہلی فسادات سے متعلق مقدمہ چل رہا ہے۔ ان کی جانب سے شہریت ترمیمی قانون (CAA) کے خلاف احتجاج میں ادا کیے گئے کردار کو ایوارڈ دینے کی وجوہات میں شامل کیا گیا ہے۔ فرنٹ لائن ڈیفنڈرز نے جمعرات، 8 اکتوبر کو جاری بیان میں عمر خالد کو ایشیا کے لیے اس سال کے ایوارڈ کا فاتح قرار دیا۔ تنظیم کے مطابق، خالد کے حامی انہیں عوام کی آواز اور انسانی حقوق کا محافظ سمجھتے ہیں، جبکہ ان کے مخالفین انہیں ریاست مخالف قرار دیتے ہیں۔ تنظیم نے کہا کہ خالد نے شہریت کے قانون میں ان ترامیم کے خلاف پرامن اور جمہوری احتجاج میں اہم کردار ادا کیا تھا، جنہیں ناقدین مسلم مخالف قرار دیتے ہیں۔
 
دہلی پولیس کے اسپیشل سیل نے عمر خالد کو 14 ستمبر 2020 کو گرفتار کیا تھا۔ پولیس نے انہیں 2020 کے شمال مشرقی دہلی فسادات سے متعلق مبینہ بڑی سازش کے مقدمے میں اہم ملزم قرار دیا۔ ان پر غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (UAPA) سمیت مختلف قانونی دفعات کے تحت الزامات عائد کیے گئے ہیں، جن میں قتل اور قتل کی کوشش سے متعلق الزامات بھی شامل ہیں۔ خالد ان الزامات کی بنیاد پر جیل میں ہیں؛ الزامات کا حتمی فیصلہ عدالتی کارروائی سے ہونا ہے۔ گرفتاری سے پہلے عمر خالد طلبہ کارکن کے طور پر سرگرم تھے۔ انہوں نے 2019 اور 2020 کے دوران شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ہونے والے احتجاج میں حصہ لیا تھا۔ فرنٹ لائن ڈیفنڈرز کے مطابق، اس قانون کے اثرات کے حوالے سے مسلمانوں میں تشویش پائی جاتی تھی، کیونکہ ناقدین کو خدشہ تھا کہ اس کے نفاذ سے مسلم برادری پر غیر متناسب اثر پڑ سکتا ہے۔
 
فرنٹ لائن ڈیفنڈرز نے اپنے بیان میں کہا کہ عمر خالد نے طلبہ، اقلیتوں اور شہریوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھائی۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کے ساتھ اقوام متحدہ کے ایک ورکنگ گروپ نے بھی ان کی گرفتاری اور حراست پر سوالات اٹھائے ہیں اور اسے من مانی حراست قرار دیا ہے۔ اس سال عمر خالد کے علاوہ افریقہ سے لورینڈا مینوئل گوویا (انگولا)،  ایڈا وکٹوریہ کائٹانو (برازیل)، یورپ اور وسطی ایشیا سے لیلجانا نیشک (سربیا) اور مشرقِ وسطیٰ و شمالی افریقہ سے احمد رضا حائری (ایران) کو بھی ایوارڈ کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ تمام ایوارڈ یافتگان کے اعزاز میں آئرلینڈ کے شہر ڈبلن میں ٹرینیٹی کالج میں خصوصی تقریب منعقد کی گئی۔ عمر خالد کی جانب سے ان کے والد، سید قاسم رسول الیاس نے تقریب میں شرکت کی۔ دریں اثنا، 20 ستمبر کو دہلی ہائی کورٹ نے 2020 کے شمال مشرقی دہلی فسادات سے متعلق مبینہ بڑی سازش کے مقدمے میں عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دی تھیں۔ شرجیل امام بھی کئی برسوں سے جیل میں ہیں۔