دہلی میں اپوزیشن جماعتوں کے احتجاج سے قبل سکیورٹی انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں۔ دہلی میٹرو نے سکیورٹی وجوہات کی بنا پر چھ اسٹیشنوں کے داخلی اور خارجی راستے عارضی طور پر بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ احتجاج سے خوف زدہ ہے اور مظاہرین کی نقل و حرکت محدود کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس سے قبل ہفتہ کے روز ہونے والے احتجاج کے دوران بھی دہلی میٹرو کی خدمات متاثر ہوئی تھیں اور کئی اسٹیشنوں کے داخلی و خارجی راستے عارضی طور پر بند کیے گئے تھے۔ بعض ٹرینوں کی آمدورفت بھی متاثر ہونے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ اب تازہ احتجاج سے قبل میٹرو اسٹیشنوں پر پابندیوں کے اعلان نے سیاسی بحث کو مزید تیز کر دیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ احتجاج جمہوری حق ہے اور اس میں شرکت کرنے والے لوگوں کے لیے آمدورفت کی سہولت برقرار رہنی چاہیے۔ دوسری جانب، میٹرو کے داخلی اور خارجی راستے بند کرنے کی وجہ سکیورٹی انتظامات بتائی گئی ہے۔
احتجاج کے پیش نظر دہلی کے اہم علاقوں، خصوصاً پارلیمنٹ اسٹریٹ اور جن پتھ پر سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ حکام نے مختلف مقامات پر دہلی پولیس اور نیم فوجی دستوں کی بھاری نفری تعینات کی ہے۔ ان میں سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف)، انڈو تبتن بارڈر پولیس (آئی ٹی بی پی) اور ریپڈ ایکشن فورس (آر اے ایف) کے اہلکار بھی شامل ہیں۔ سکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی کا مقصد احتجاج کے دوران امن و امان برقرار رکھنا اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو روکنا بتایا گیا ہے۔ اہم سرکاری عمارتوں اور حساس مقامات کے اطراف بھی نگرانی بڑھا دی گئی ہے۔
حکام کے مطابق، نئی دہلی کے بعض علاقوں میں بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا (بی این ایس ایس) کی دفعہ 163 نافذ ہے۔ اس کے تحت غیر مجاز اجتماعات اور مظاہروں کو روکنے کے لیے پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ پارلیمنٹ اسٹریٹ، جن پتھ مارگ اور کناٹ پلیس کے اطراف ٹریفک کی نقل و حرکت پر بھی پابندیاں لگائی گئی ہیں۔ بعض راستوں پر گاڑیوں کو متبادل راستوں کی طرف موڑا جا رہا ہے، جس کے باعث مسافروں کو سفر کے دوران دشواری پیش آ سکتی ہے۔ دہلی میں احتجاج سے قبل سخت سکیورٹی، میٹرو اسٹیشنوں کے داخلی و خارجی راستوں کی بندش اور ٹریفک پابندیوں کے درمیان اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کے اقدامات پر سوال اٹھائے ہیں۔ احتجاج کے دوران حالات برقرار رکھنے کے لیے پولیس اور سکیورٹی ادارے چوکس ہیں۔






