اپوزیشن جماعتوں پر مشتمل انڈیا اتحاد کے رہنما آج ایس آئی آر (SIR) تنازعہ اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے کو لے کر سپریم کورٹ تک مارچ کریں گے۔ کانگریس کے سینئر رہنما راہل گاندھی نے اس مارچ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس میں اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں، نوجوانوں اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کے افراد کی شرکت متوقع ہے۔ راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ میں کہا کہ یہ مارچ کسی ایک سیاسی جماعت یا طبقے تک محدود نہیں ہوگا، بلکہ ہندوستانی شہریوں کی حیثیت سے کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس میں پارٹی، جنس، ذات، برادری اور ریاستی حدود سے بالاتر ہو کر شرکت کی جائے گی۔
راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ ملک کے نوجوان پرامن احتجاج کے لیے دہلی کی سڑکوں پر نکلے تھے۔ ان کے مطابق، نوجوانوں کے دلوں میں نفرت یا غصے کے بجائے محبت کا جذبہ تھا، لیکن پولیس اور بی جے پی سے وابستہ افراد نے ان کے ساتھ مارپیٹ کی۔ انہوں نے اس مبینہ تشدد پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایسے ہندوستان کے خواہاں نہیں ہیں جہاں پرامن احتجاج کرنے والوں کو تشدد کا سامنا کرنا پڑے۔ راہول گاندھی نے اعلان کیا کہ اپوزیشن رہنما اور دیگر شہری آج ہندوستانی شہریوں کی حیثیت سے سپریم کورٹ کی طرف مارچ کریں گے۔
ایس آئی آر یعنی انتخابی فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی کا معاملہ اپوزیشن جماعتوں اور الیکشن کمیشن کے درمیان تنازعے کا موضوع بنا ہوا ہے۔ اپوزیشن رہنما اس عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں پر سوال اٹھا رہے ہیں اور انتخابی عمل میں شفافیت کو یقینی بنانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ انڈیا اتحاد کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ووٹ دینے کے حق اور انتخابی فہرستوں کی شفافیت سے متعلق خدشات کو دور کیا جانا چاہیے۔ اسی پس منظر میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے۔ راہل گاندھی کے اعلان کے مطابق، سپریم کورٹ تک مارچ کا مقصد ان مطالبات کی طرف توجہ دلانا اور پرامن احتجاج کے حق کو اجاگر کرنا ہے۔ تاہم، مارچ کے دوران پیش آنے والے واقعات اور لگائے گئے الزامات کے بارے میں متعلقہ فریقوں کے مؤقف کو بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔






