صحافی صدیق کپن نے اپنی ضمانت کی شرائط میں نرمی کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ انہوں نے سعودی عرب میں دو ہفتوں تک عمرہ ادا کرنے کے لیے اپنا پاسپورٹ عارضی طور پر واپس کرنے کی درخواست کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے اپنی منجمد تنخواہ اور پروویڈنٹ فنڈ (پی ایف) کے کھاتوں تک رسائی بحال کرنے اور تفتیش کے دوران ضبط کیے گئے ذاتی سامان کی واپسی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ صدیق کپن کی جانب سے دائر درخواست میں عدالت سے اپیل کی گئی ہے کہ انہیں عمرہ کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب جانے کی اجازت دی جائے اور اس مقصد کے لیے ان کا پاسپورٹ عارضی طور پر واپس کیا جائے۔ ان کی درخواست پر آج سپریم کورٹ میں سماعت متوقع ہے۔
صدیق کپن کو اکتوبر 2020 میں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ اترپردیش کے ہاتھرس جا رہے تھے۔ وہ وہاں ایک دلت خاتون کے ساتھ پیش آنے والے جنسی تشدد اور موت کے معاملے کی رپورٹنگ کے لیے جا رہے تھے۔ ان کے خلاف غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ یعنی یو اے پی اے (UAPA) سمیت مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ اس معاملے نے صحافت کی آزادی، صحافیوں کے حقوق اور فوجداری قوانین کے استعمال کے حوالے سے ملک بھر میں بحث کو جنم دیا تھا۔ فروری 2023 میں سپریم کورٹ نے صدیق کپن کو ضمانت دے دی تھی۔ تاہم، ضمانت کے بعد بھی ان پر عائد بعض شرائط اور دیگر معاملات ان کے لیے اہم قانونی مسائل بنے ہوئے ہیں۔
صدیق کپن نے اپنی نئی درخواست میں صرف عمرہ کے لیے سفر کی اجازت ہی نہیں مانگی، بلکہ اپنی مالی سہولتوں کی بحالی کی درخواست بھی کی ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ ان کی منجمد تنخواہ اور پی ایف کھاتوں تک رسائی بحال کی جائے تاکہ وہ اپنی مالی ضروریات پوری کر سکیں۔ اس کے علاوہ، انہوں نے تفتیش کے دوران ضبط کیے گئے اپنے ذاتی سامان کی واپسی کی بھی اپیل کی ہے۔ اب سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران ان درخواستوں پر غور کیے جانے کی توقع ہے۔ عدالت کا فیصلہ اس بات کا تعین کرے گا کہ صدیق کپن کو عمرہ کے لیے پاسپورٹ کی عارضی واپسی اور دیگر مطالبات کے سلسلے میں کیا راحت ملتی ہے۔






