Monday, October 12, 2026 | 29 ربيع الآخر 1448
  • News
  • »
  • قومی
  • »
  • دہلی میں احتجاج کے لیے جنتر منتر کی جگہ نئے مقامات مقرر، وزارتِ داخلہ کا فیصلہ

دہلی میں احتجاج کے لیے جنتر منتر کی جگہ نئے مقامات مقرر، وزارتِ داخلہ کا فیصلہ

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Md Shahbaz | Last Updated: 12 Oct 2026

دہلی میں احتجاج کے لیے جنتر منتر کی جگہ نئے مقامات مقرر، وزارتِ داخلہ کا فیصلہ
دہلی میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف ہونے والے احتجاج کے درمیان مرکزی وزارتِ داخلہ نے جنتر منتر کو احتجاج کے لیے مختص مقامات کی فہرست سے خارج کر دیا ہے۔ وزارتِ داخلہ کی ایک کمیٹی کی سفارشات کی بنیاد پر دہلی میں دھرنوں اور مظاہروں کے لیے نئے مقامات مقرر کیے گئے ہیں۔ اس فیصلے کے بعد اب رام لیلا میدان، براری میدان اور مشرقی دہلی کے سی بی ڈی میدان کو احتجاجی مقامات کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔ حکم نامے کے مطابق، جنتر منتر کو احتجاجی مقام قرار دینے والا سابقہ نوٹیفکیشن منسوخ کر دیا گیا ہے۔ جنتر منتر گزشتہ تقریباً 33 برس سے دہلی میں احتجاج اور دھرنوں کے لیے ایک اہم مقام رہا ہے۔ یہاں سیاسی جماعتوں، سماجی تنظیموں اور مختلف عوامی گروپوں کی جانب سے متعدد مسائل پر مظاہرے کیے جاتے رہے ہیں۔ اس سے پہلے انڈیا گیٹ کے قریب واقع بوٹ کلب احتجاج کے لیے مختص مقام تھا۔
 
دہلی پولیس کے نئے حکم نامے میں 28 اپریل 2022 کو جاری کیے گئے اسٹینڈنگ آرڈر میں بعض ترامیم کی گئی ہیں۔ ان تبدیلیوں کا مقصد احتجاج کے لیے مختص مقامات اور وہاں انتظامات سے متعلق ہدایات کو واضح کرنا بتایا گیا ہے۔ تاہم، احتجاج کی اجازت حاصل کرنے کا طریقہ، مظاہرین کی تعداد کی حد اور دیگر شرائط کے بارے میں مکمل تفصیلات ابھی الگ سے جاری ہونے والے قواعد کے بعد واضح ہوں گی۔ حکم نامے میں اس سلسلے میں معیاری آپریٹنگ طریقہ کار (SOP) جاری کرنے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
 
حکم نامے کے مطابق، وزارتِ داخلہ نے جنتر منتر کے متبادل مقامات کی نشاندہی کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی۔ کمیٹی نے مختلف مقامات کا جائزہ لینے کے بعد اپنی سفارشات پیش کیں، جن کی بنیاد پر نئے احتجاجی مقامات کا تعین کیا گیا۔ جنتر منتر طویل عرصے سے دہلی میں عوامی احتجاج کی علامت رہا ہے۔ یہاں سیاسی، سماجی اور شہری مسائل کے علاوہ مختلف مطالبات کے حق میں دھرنے اور مظاہرے منعقد کیے جاتے رہے ہیں۔ اسی لیے اسے احتجاجی مقامات کی فہرست سے خارج کرنے کا فیصلہ اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
 
حکام کے مطابق، احتجاج سے متعلق اجازت ناموں، تنظیمی طریقہ کار اور دیگر انتظامی امور کے لیے الگ ایس او پی جاری کیا جائے گا۔ اس میں یہ واضح کیے جانے کی توقع ہے کہ نئے مقررہ مقامات پر احتجاج کرنے کے لیے کن شرائط پر عمل کرنا ہوگا۔ نئے انتظام کے بعد دہلی میں احتجاج کرنے والی سیاسی جماعتوں، سماجی تنظیموں اور دیگر گروپوں کو اپنی سرگرمیوں کے لیے متبادل مقامات کا انتخاب کرنا پڑ سکتا ہے۔ تاہم، احتجاج کی اجازت اور اس سے متعلق عملی ضوابط کی مکمل صورت تفصیلی ہدایات جاری ہونے کے بعد ہی واضح ہوگی۔