Monday, October 12, 2026 | 29 ربيع الآخر 1448
  • News
  • »
  • علاقائی
  • »
  • ریاض ہوائی اڈے پر حملہ: علاج کےدوران حیدرآبادی انجینئر محمدیوسف علی کا انتقال

ریاض ہوائی اڈے پر حملہ: علاج کےدوران حیدرآبادی انجینئر محمدیوسف علی کا انتقال

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: 12 Oct 2026

ریاض ہوائی اڈے پر حملہ: علاج کےدوران حیدرآبادی انجینئر محمدیوسف علی کا انتقال
 
ریاض ایئرپورٹ پر حملے میں علاج کےدوران   حیدرآباد ی انجینئر  محمد یوسف علی  کا انتقال ہو گیا ۔ محمد یوسف علی نے اپنے اہل خانہ کو عمرہ کے لیے سعودی عرب بلایا تھا اور وہ مدینہ کے مقدس شہر کے لیے روانہ ہونے والے تھے کہ ایئرپورٹ پر حملہ ہوا۔ حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے آئی ٹی انجینئر یوسف علی (46) جو گزشتہ 10 سال سے ریاض میں ملازم ہیں، نے اپنی بیوی اور تین بچوں کو تقریباً 10 دن قبل عمرہ کرانے کے لیے سعودی عرب بلایا تھا۔
 
ایئر پورٹ پر مدینہ جانے کی کر رہے تھے تیاری
یہاں ان کے رشتہ داروں کی طرف سے موصول ہونے والی معلومات کے مطابق، یوسف علی، ان کی اہلیہ، دو بیٹے، ایک بیٹی اور ان کی خالہ اتوار کو کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر تھے۔ جب وہ مدینہ جانے والی پرواز میں سوار ہونے کے لیے لاؤنج میں انتظار کر رہے تھے، ہوائی اڈے پر  حوثیوں کی طرف سے فائر کیے گئے میزائل نے انھیں  نشانہ بنایا۔
 
علاج کےدوران محمد یوسف علی کا انتقال 
ملبہ یوسف، ان کے خاندان کے افراد اور دیگر عمرہ زائرین پر گرا۔  انجینئر  شدید زخمی ہو گئے اور اانھیں  ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا، جہاں بعد میں انھوں  نے دم توڑ دیا۔اتوار کی رات ریاض میں ہندوستانی سفارت خانے نے اس حملے میں ایک ہندوستانی کی موت کی تصدیق کی۔
 
اہلیہ اور بچے زخمی، زیرعلاج
محمد یوسف علی  کے بیٹے 18 سالہ امان علی اور 16 سالہ وصی علی زخمی ہوگئے۔ امان کے گھٹنے کی سرجری ہوئی جبکہ اس کے بھائی کی تین انگلیاں ضائع ہو گئیں۔ دونوں حیدرآباد کے طالب علم ہیں۔ان کی بیوی سمیرا اور ان کی 11 سالہ بیٹی مریم، جو حیدرآباد کے ایک اسکول میں کلاس 6 کی طالبہ تھی، معمولی زخمی ہو کر بچ گئے۔
 
آخری رسومات سعودی میں ادا کئے جانے کا امکان
یوسف کی موت کی اطلاع ملتے ہی ان کے رشتہ دار اور دوست مہدی پٹنم میں واقع ان کی رہائش گاہ پہنچ گئے۔ایک رشتہ دار نے بتایا کہ یوسف کی آخری رسومات ریاض میں ادا کیے جانے کا امکان ہے۔
 
اسد اویسی کا وزارات خارجہ سےربطہ
حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے وزیر خارجہ ایس جے شنکر پر زور دیا کہ وہ خاندان کو ہر ممکن مدد فراہم کریں۔ رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ وہ ریاض میں یوسف کے بہنوئی سے رابطے میں ہے۔ ڈپٹی چیف آف مشن نے حکام کو یقین دلایا ہے کہ سفارت خانہ زندہ بچ جانے والے خاندان کے افراد کی طبی دیکھ بھال کی کڑی نگرانی کر رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر بات کرتے ہوئے، اویسی نے وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر پر زور دیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ خاندان کو ہنگامی طبی علاج کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کی جائے اور یوسف علی کی میت کی وطن واپسی حیدرآباد تک ہو۔
 
وزارت خارجہ کے حکام اور ریاض میں ہندوستانی سفارت خانے نے اس مشکل وقت میں سوگوار خاندان کو مکمل لاجسٹک اور طبی امداد فراہم کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
 
حملے میں 13 افراد کی موت 300 سے زائد زخمی
 حوثیوں کے حملےمیں مہلوکین کی تعداد 13  ہو گئی ۔ جبکہ زخمی 300 سے زائد  ہیں۔ اس حملے میں تلنگانہ کا ایک اور شخص بھی زخمی ہوا،کاماریڈی ضلع سے تعلق رکھنے والے شیخ سعید (42) جو ہوائی اڈے پر ایک کیفے میں ملازم تھے، ملبہ گرنے سے زخمی ہوگئے۔ مبینہ طور پر انہیں کنگ فہد ملٹری ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا اور انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں زیر علاج تھے۔سعید کے دو بھائی بھی سعودی عرب میں ملازم ہیں۔ حملے میں زخمی ہونے والوں میں گیارہ ہندوستانی بھی شامل ہیں۔
 
5 ہندوستانی شہری زیرعلاج۔ دیگر ڈسچارج 
دریں اثنا، ہندوستانی سفارت خانے نے 'ایکس' پر ایک پوسٹ میں کہا کہ زخمیوں میں سے پانچ کا علاج چل رہا ہے جبکہ دیگر کو فارغ کر دیا گیا ہے۔"ہمارے سفارت خانے کے اہلکاروں نے ان تمام اسپتالوں کا دورہ کیا ہے جہاں حملے میں زخمی ہونے والے ہندوستانی شہریوں کو داخل کیا گیا ہے۔ جیسا کہ پہلے بتایا گیا ہے، بدقسمتی سے آج 1 ہندوستانی شہری کا انتقال ہوگیا، 3 ICU میں ہیں لیکن مستحکم ہیں، 2 مزید نارمل وارڈز میں داخل ہیں جب کہ دیگر کو ڈسچارج کردیا گیا ہے"۔"ہم زخمی ہندوستانی شہریوں کو فراہم کی جانے والی طبی دیکھ بھال کے لئے سعودی حکام کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور اہل خانہ کو یقین دلاتے ہیں کہ سفارت خانہ ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا"۔