Monday, October 12, 2026 | 29 ربيع الآخر 1448
  • News
  • »
  • کاروبار
  • »
  • تہواروں سے پہلے مہنگائی کا دباؤ، چاول، چینی، دالوں اورتیل کی قیمتوں میں اضافہ

تہواروں سے پہلے مہنگائی کا دباؤ، چاول، چینی، دالوں اورتیل کی قیمتوں میں اضافہ

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Md Shahbaz | Last Updated: 12 Oct 2026

تہواروں سے پہلے مہنگائی کا دباؤ، چاول، چینی، دالوں اورتیل کی قیمتوں میں اضافہ
تہواروں کا موسم عام طور پر لوگوں کے اخراجات میں اضافے کا سبب بنتا ہے، لیکن اس بار مہنگائی نے عام خاندانوں کی مشکلات مزید بڑھا دی ہیں۔ اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے کے باعث گھریلو بجٹ متاثر ہو رہا ہے اور دیوالی جیسے تہوار کی تیاریاں بھی کئی خاندانوں کے لیے مشکل بنتی جا رہی ہیں۔ چاول، چینی، دالوں، خوردنی تیل اور دیگر زرعی اجناس کی قیمتوں میں اضافے نے بازاروں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
 
قیمتوں میں اضافے کی اہم وجوہات میں خراب موسمی حالات، زرعی پیداوار میں ممکنہ کمی، مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور مال برداری کے بڑھتے ہوئے اخراجات شامل ہیں۔ آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر کے قریب کشیدگی سے عالمی تجارتی راستوں اور سپلائی چین پر بھی اثر پڑنے کا خدشہ ہے۔ نقل و حمل مہنگی ہونے کی صورت میں اشیاء کی مجموعی لاگت بڑھ سکتی ہے، جس کا بوجھ بالآخر صارفین کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔
 
عالمی منڈی میں چاول کی قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ رسد اور نقل و حمل سے متعلق مسائل بتائے جا رہے ہیں۔ فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق، چاول کی عالمی قیمتیں دو سال کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی ہیں۔ فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (ایف اے او) کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں عالمی سطح پر چاول کی پیداوار میں 2.4 فیصد کمی کا امکان ہے۔ بھارت میں پیداوار 154 ملین ٹن سے کم ہو کر 144 ملین ٹن رہنے کا اندازہ بھی پیش کیا گیا ہے۔ تاہم، ان اعداد و شمار کی تصدیق ضروری ہے۔ اگر پیداوار میں کمی اور ترسیل کے اخراجات میں اضافہ جاری رہتا ہے تو عالمی منڈی میں چاول کی قیمتوں پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔
 
چینی کی قیمتوں میں بھی اضافہ رپورٹ کیا گیا ہے۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق، اکتوبر میں خام چینی کے فیوچرز کی قیمتوں میں تقریباً 8 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ جولائی کی کم ترین سطح کے مقابلے میں یہ تقریباً 40 فیصد زیادہ بتائی گئی ہیں۔ برازیل، بھارت، تھائی لینڈ اور یورپی یونین میں خراب موسم کے باعث چینی کی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ پیداوار میں کمی کی صورت میں عالمی منڈی میں چینی کی دستیابی محدود ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ کا امکان رہے گا۔
 
خوردنی تیل کی قیمتوں پر بھی عالمی توانائی منڈی اور بائیو فیول کی بڑھتی ہوئی مانگ اثر انداز ہو رہی ہے۔ نباتاتی تیل کا استعمال صرف کھانے پکانے تک محدود نہیں، بلکہ اسے بائیو فیول تیار کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ جب نباتاتی تیل کی طلب میں اضافہ ہوتا ہے تو خوراک اور توانائی، دونوں شعبوں کے درمیان اس کی دستیابی اور قیمتوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ اس کے ساتھ خام تیل کی قیمتوں اور مال برداری کے اخراجات میں تبدیلی بھی خوردنی تیل کی منڈی کو متاثر کر سکتی ہے۔
 
دالوں کی قیمتوں میں اضافے نے بھی گھریلو بجٹ پر دباؤ بڑھایا ہے۔ فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ ایک سال میں چنے کی قیمت میں 23 فیصد، ماش کی دال میں 24 فیصد اور مٹر کی قیمت میں 47 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس اضافے کی ایک وجہ درآمدی ڈیوٹی میں تبدیلی کو بتایا گیا ہے۔ اسی طرح جو کی قیمتوں میں 44 فیصد، مکئی میں 9 فیصد اور چائے کی قیمت میں 10 فیصد اضافے کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ دالیں عام خاندانوں کی روزمرہ خوراک کا اہم حصہ ہیں، اس لیے ان کی قیمتوں میں اضافہ براہِ راست گھریلو اخراجات کو متاثر کرتا ہے۔
 
زرعی پیداوار میں کمی، موسمی تبدیلیوں اور عالمی تجارتی راستوں میں رکاوٹوں کے باعث اشیائے خوردونوش کی قیمتوں پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے۔ تاہم، مستقبل میں قیمتیں کس حد تک بڑھیں گی، اس کا انحصار فصلوں کی پیداوار، عالمی طلب و رسد، حکومتی پالیسیوں اور نقل و حمل کے اخراجات پر ہوگا۔ اگر سپلائی کے مسائل برقرار رہے اور پیداوار توقع سے کم ہوئی تو صارفین کو مزید مہنگائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایسے حالات میں ضروری اشیاء کی قیمتوں پر نظر رکھنا اور رسد کو بہتر بنانا حکومتوں کے لیے اہم چیلنج ہوگا۔