Monday, October 12, 2026 | 29 ربيع الآخر 1448
  • News
  • »
  • سیاست
  • »
  • گورکھپو: ووٹر لسٹ میں ایک ہی شخص کے متعدد نام؟ اکھلیش یادو کا الیکشن کمیشن سے سوال

گورکھپو: ووٹر لسٹ میں ایک ہی شخص کے متعدد نام؟ اکھلیش یادو کا الیکشن کمیشن سے سوال

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Md Shahbaz | Last Updated: 12 Oct 2026

گورکھپو: ووٹر لسٹ میں ایک ہی شخص کے متعدد نام؟ اکھلیش یادو کا الیکشن کمیشن سے سوال
اتر پردیش میں ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (SIR) کے عمل پر تنازعہ جاری ہے۔ سماج وادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو نے گورکھپور سٹی اسمبلی حلقے کی ووٹر لسٹ میں ایک ہی شخص کے نام پر متعدد اندراجات ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے الیکشن کمیشن سے سوالات کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ووٹر لسٹ سے دوہرے اندراجات ختم نہیں کیے جا سکتے تو پھر ایس آئی آر کرانے کا مقصد کیا ہے؟ اکھلیش یادو نے اس معاملے پر احتجاج کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ اکھلیش یادو نے الزام لگایا کہ بی جے پی کے دور میں ووٹر لسٹ میں مبینہ طور پر جعلی ووٹوں کے اندراج کا سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ الیکشن کمیشن اس معاملے میں غیر جانبداری سے کام لے گا۔ ان کے مطابق، اتر پردیش میں ایس آئی آر کا عمل مکمل ہونے اور نظرثانی کے اقدامات کے باوجود ووٹر لسٹ میں بڑی تعداد میں دوہرے اندراجات موجود ہیں۔
 
اکھلیش یادو نے گورکھپور سٹی اسمبلی حلقے کی ووٹر لسٹ کا حوالہ دیتے ہوئے چند افراد کے نام پیش کیے، جن کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ ان کے نام ایک سے زیادہ مرتبہ درج ہیں۔ انہوں نے آدتیہ وردھن شریواستو کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے نام پر دو جگہ موجود ہیں۔ اسی طرح پروین کمار یادو کے نام پر تین، گورو مشرا کے نام پر دو اور نغمہ ربانی کے نام پر چھ اندراجات ہونے کا دعویٰ کیا۔ انہوں نے دیپک پاسوان کے نام پر دو اندراجات اور شمبھو شنکر شرما کے نام پر گورکھپور اربن اسمبلی حلقے کے مختلف بوتھوں پر چار اندراجات ہونے کی بات بھی کہی۔
 
اکھلیش یادو نے سوال اٹھایا کہ اگر انتخابی فہرستوں میں موجود ایسی مبینہ بے ضابطگیوں کو دور نہیں کیا جا رہا تو ایس آئی آر کی مشق کس مقصد کے لیے کی گئی؟ انہوں نے کہا کہ ان معاملات پر آواز اٹھانا اور احتجاج کرنا ضروری ہے۔ ان کے پیش کردہ ناموں اور اندراجات کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔ ایک ہی شخص کے نام پر متعدد اندراجات ہونے کا دعویٰ بذاتِ خود یہ ثابت نہیں کرتا کہ کسی نے جعلی ووٹ ڈالا ہے۔
 
اتر پردیش میں ووٹر لسٹ کی نظرثانی کے عمل پر اس سے قبل بھی سوالات اٹھائے گئے تھے۔ ایک تنظیم نے الزام لگایا تھا کہ مناسب وضاحت کے بغیر 85 ہزار سے زیادہ ووٹ حذف کیے گئے اور سافٹ ویئر کے ذریعے خودکار طور پر فارم 7 کی درخواستیں تیار کی جا رہی تھیں۔ فارم 7 ووٹر لسٹ سے کسی نام کو حذف کرنے یا اس پر اعتراض درج کرانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ چیف الیکٹورل آفیسر نے ان الزامات کی تردید کی تھی۔ اس کے علاوہ، بعض اسمبلی حلقوں میں مسلم ووٹروں کے نام مبینہ طور پر اجتماعی طور پر حذف کیے جانے کے دعوے بھی سامنے آئے تھے۔
 
ایس آئی آر کے عمل میں ووٹر لسٹ کی درستگی، ناموں کے اندراج اور حذف کرنے کے طریقہ کار پر سیاسی بحث جاری ہے۔ اپوزیشن جماعتیں انتخابی فہرستوں کی شفافیت اور غیر جانبداری کا مطالبہ کر رہی ہیں، جبکہ متعلقہ الزامات کی تصدیق کے لیے سرکاری ریکارڈ اور الیکشن کمیشن کی وضاحت اہم ہوگی۔ اب گورکھپور سٹی اسمبلی حلقے میں مبینہ دوہرے اندراجات کا معاملہ سامنے آنے کے بعد ووٹر لسٹ کی درستگی اور نظرثانی کے عمل پر ایک بار پھر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔