دہلی کے قدیم تجارتی مرکز چاوڑی بازار میں زیرِ تعمیر عمارت گرنے کے حادثے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 3 ہوگئی ہے۔ جمعرات کی صبح پیش آنے والے اس حادثے کے بعد ریسکیو آپریشن مسلسل جاری ہے۔ حکام کے مطابق آج ملبے سے ایک اور لاش نکالی گئی، جس کی شناخت 40 سالہ پنکج شرما کے طور پر ہوئی ہے۔ افسران نے بتایا کہ پنکج شرما کا تعلق بہار کے ضلع کھگڑیا کے علاقے ہنومان نگر سے تھا۔ وہ تعمیراتی کام کے سلسلے میں دہلی آئے ہوئے تھے۔ ریسکیو ٹیموں کے مطابق اب تک ملبے سے مجموعی طور پر 5 افراد کو نکالا جا چکا ہے۔ ان میں سے 3 افراد کی موت ہو گئی، جبکہ 2 زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کی حالت مستحکم بتائی جا رہی ہے۔
چاوڑی بازار میٹرو اسٹیشن کے قریب پیش آیا حادثہ
حکام کے مطابق یہ حادثہ جمعرات کی صبح اس وقت پیش آیا جب چاوڑی بازار میٹرو اسٹیشن کے قریب گلی شتارہ میں تین منزلہ زیرِ تعمیر عمارت اچانک منہدم ہوگئی۔ ایمرجنسی کنٹرول روم کو حادثے کی پہلی اطلاع صبح 9 بج کر 50 منٹ پر ملی۔ اطلاع ملتے ہی دہلی پولیس، نیشنل ڈیزاسٹر رسپانس فورس (NDRF)، دہلی فائر سروس اور دہلی میونسپل کارپوریشن کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔ اس کے بعد ملبہ ہٹانے اور پھنسے ہوئے افراد کو نکالنے کے لیے بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا۔ جمعرات ہی کو ملبے سے دو لاشیں نکالی گئی تھیں، جبکہ ایک زخمی کو فوری طور پر اسپتال پہنچایا گیا تھا۔
غیر قانونی تعمیرات کا شبہ، دو انجینئر معطل
پولیس کی ابتدائی تفتیش میں اشارہ ملا ہے کہ عمارت میں مبینہ طور پر غیر قانونی تعمیراتی سرگرمیاں جاری تھیں اور اس کی ساخت بھی محفوظ نہیں تھی۔ حکام حفاظتی ضوابط کی ممکنہ خلاف ورزیوں کی جانچ کر رہے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ عمارت کی تعمیر اور نگرانی کے دوران کہاں کوتاہی ہوئی۔ اس معاملے میں میونسپل کارپوریشن نے اپنے ایک جونیئر انجینئر اور اسسٹنٹ انجینئر کو معطل کر دیا ہے، جبکہ ٹھیکیدار کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کی گئی ہے۔
ملبے میں مزید افراد کی تلاش جاری
حادثے کے بعد ریسکیو ٹیمیں بھاری مشینری کے ساتھ ساتھ ہاتھوں سے بھی ملبہ ہٹانے کا کام کر رہی ہیں۔ کوشش کی جا رہی ہے کہ اگر کوئی شخص ملبے میں زندہ موجود ہو تو اسے محفوظ طریقے سے باہر نکالا جا سکے۔ مقامی رہائشیوں اور دکانداروں نے بھی امدادی کارروائیوں میں رضاکارانہ طور پر حصہ لیا اور ریسکیو اہلکاروں کو راستے صاف کرنے میں مدد فراہم کی۔ حکام کے مطابق ریسکیو آپریشن تاحال جاری ہے۔






