سپریم کورٹ نے پنجاب، ہریانہ اور ہماچل پردیش کے درمیان بھاکڑا ننگل اور بیاس بجلی منصوبوں سے متعلق دہائیوں پرانے تنازعے کا تاریخی تصفیہ کر دیا ہے۔ نئی دہلی میں چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی میں تین رکنی بنچ، جس میں جسٹس جوئے مالیہ باگچی اور جسٹس وی موہنا شامل تھے، نے ایک متفقہ انتظام منظور کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ہماچل پردیش کو اس کے تسلیم شدہ 7.19 فیصد حصے کے نفاذ کے طور پر آئندہ 20 برس میں 1197.3 کروڑ یونٹ بجلی فراہم کی جائے گی۔
عدالت نے واضح کیا کہ فراہمی کی یہ شکل نقد ادائیگی کے بجائے براہ راست بجلی کی صورت میں ہوگی، یوں رقم کی لین دین سے گریز کرتے ہوئے ریاستوں کے درمیان واجبات کا عملی حل نکالا گیا ہے۔
یہ تنازعہ کب اور کیوں پیدا ہوا؟
بھاکڑا ننگل اور بیاس پن بجلی منصوبوں میں حصہ داری کے سوال پر ریاستوں کے درمیان برسوں سے اختلاف چلا آ رہا تھا۔ سپریم کورٹ نے 2011 میں اصولی طور پر ہماچل پردیش کے حق کو تسلیم کر لیا تھا، تاہم اس فیصلے پر عمل درآمد کے طریقہ کار اور مدت کے تعین پر اتفاق نہ ہو سکا تھا۔ جس کے نتیجے میں فراہمی کی مدت، مقدار اور مالی تصفیے کی نوعیت پر بحث جاری رہی۔ تازہ فیصلے نے اسی خلا کو پُر کیا ہے اور نفاذ کے واضح خطوط فراہم کیے ہیں۔
عدالت نے یہ فیصلہ کیسے بنایا؟
بنچ نے اٹارنی جنرل آر وینکٹ رمنی کی قیادت میں ہونے والی مشاورت کے بعد ایک نقد ادائیگی سے پاک تصفیے کو منظور کیا۔ اس عمل میں ہماچل پردیش، پنجاب اور ہریانہ کی حکومتیں شامل رہیں اور فارمولہ اس اصول پر قائم ہوا کہ ہماچل پردیش کو صرف اور صرف بجلی کی صورت میں اس کا حق ملے گا۔ مرکزی بجلی اتھارٹی کی سابقہ رہنمائی کے مطابق ہماچل پردیش کی اصل حصہ داری 1306.6 کروڑ یونٹ متعین کی گئی تھی، تاہم ڈیموں کی تعمیر سے متعلق سرمایہ جاتی اخراجات کو ایڈجسٹ کرنے کے بعد 420 کروڑ روپے کی قدر بندی شامل کی گئی، جس کے نتیجے میں قابل فراہمی مقدار 1197.3 کروڑ یونٹ ٹھہری۔ اس طرح ایک طرف حصے کی ادائیگی برقرار رہی اور دوسری جانب انفراسٹرکچر پر اٹھنے والے اخراجات کا حساب بھی پورا ہوا۔
کس کا مؤقف تسلیم کیا گیا ؟
ہماچل پردیش نے تجویز دی تھی کہ بجلی کی فراہمی 10 برس میں مکمل ہو، جبکہ پنجاب نے 30 برس مانگے۔ اٹارنی جنرل نے ایک درمیانی راستے کے طور پر 15 برس کی سفارش رکھی۔ بینچ نے تمام دلائل سننے کے بعد ایک متوازن مدت 20 برس مقرر کی، تاکہ سپلائی شیڈول قابل عمل رہے اور گرڈ مینجمنٹ کے تقاضے بھی متاثر نہ ہوں۔
اب آگے کیا ہوگا اور یہ کہاں نافذ ہوگا؟
عدالت کے منظورہ انتظام کے تحت پنجاب اور ہریانہ آئندہ دو دہائیوں میں مرحلہ وار سپلائی دیں گے۔ تفصیلی شیڈول متعلقہ پاور یٹیلیٹیز اور ریگولیٹری اداروں کے ذریعے نافذ کیا جائے گا، تاکہ موسمی پیداوار، آبی ذخائر اور گرڈ کی ضروریات کے مطابق سال بہ سال ترسیل یقینی بنے۔ اس انتظام سے ہماچل پردیش کو اپنے 7.19 فیصد حصے کے حقیقی نفاذ کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
یہ فیصلہ کیوں اہم ہے؟
کیونکہ اس سے 2011 کے عدالتی حکم پر عمل درآمد کی طوالت اور ابہام ختم ہوا، بین الریاستی تعاون کو تقویت ملی اور مقدمہ بازی کے اضافی اخراجات سے بچت ہوئی۔ مزید یہ کہ نقد ادائیگی کے بجائے توانائی کی ترسیل کے ذریعے ریاستوں کے مالی دباؤ میں فوری اضافہ نہیں ہوگا اور صارفین پر نرخوں کی ممکنہ غیر معمولی منتقلی سے بھی احتراز ممکن بنے گا۔جس کے نتیجے میں، سپریم کورٹ کی سرپرستی میں طے پانے والا یہ تصفیہ تینوں ریاستوں کے لیے دیرپا توانائی نظم و نسق کی بنیاد رکھتا ہے، جس سے علاقائی بجلی استحکام، آبی ذخائر کے منصفانہ استعمال اور وفاقی ہم آہنگی کو نئی سمت ملتی ہے۔







