Friday, November 06, 2026 | 25 جمادى الأولى 1448
  • News
  • »
  • جموں وکشمیر
  • »
  • نیشنل کانفرنس میں بغاوت کے خبروں کی فاروق عبداللہ نے کی تردید

نیشنل کانفرنس میں بغاوت کے خبروں کی فاروق عبداللہ نے کی تردید

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: 06 Nov 2026

  نیشنل کانفرنس میں بغاوت کے خبروں کی   فاروق عبداللہ نے کی تردید
نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے جمعہ کے روز پارٹی میں ممکنہ تقسیم سے متعلق خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ تقریباً 16 ارکانِ اسمبلی کی طرف سے اٹھائے گئے تحفظات حقیقی ہیں اور قیادت انہیں حل کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے گی۔ انہوں نے یہ بات ان ارکان کے ساتھ ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کہی، جہاں پارٹی قیادت نے ان کی شکایات تفصیل سے سنی اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تبادلۂ خیال کیا۔
 
ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ ارکان کے مسائل کو سنجیدگی سے سنا گیا ہے اور ان کے ازالے کے لیے فوری اور مرحلہ وار فیصلے کیے جائیں گے۔ ان کے مطابق کچھ اقدام جلد اٹھائے جائیں گے اور کچھ پر بتدریج عمل ہوگا تاکہ تنظیمی ڈھانچے اور حکومتی کارکردگی دونوں کو مضبوط کیا جا سکے اور عوامی مسائل کے حل میں کوئی رکاوٹ نہ رہے۔ ان کے مطابق پارٹی اس امر پر متفق ہے کہ عوامی خدمت، موثر نظم و نسق اور اندرونی مشاورت کو بیک وقت مضبوط بنایا جائے تاکہ کارکنوں اور ووٹرز کا اعتماد مزید مستحکم ہو۔
 
پارٹی کے اندر بغاوت یا گروہ بندی کی قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے دوٹوک مؤقف اختیار کیا کہ نیشنل کانفرنس متحد ہے اور اسے توڑا نہیں جا سکتا۔ ان کے مطابق یہ جماعت ایک منظم سیاسی کمیونٹی ہے، اور جو لوگ سمجھتے ہیں کہ اسے تقسیم کیا جا سکتا ہے، انہیں تاریخ یاد رکھنی چاہیے کہ یہ جماعت پہلے کبھی نہیں ٹوٹی اور آئندہ بھی نہیں ٹوٹے گی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اختلافِ رائے کو اصلاح کی نیت سے سنا گیا ہے اور اسے کمزوری کے بجائے ادارہ جاتی بہتری کے ایک حصے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
 
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب پارٹی اور حکومت کی کارکردگی سے متعلق کچھ ارکانِ اسمبلی کی ناراضی کی خبریں سامنے آئی تھیں۔ تقریباً 16 ارکانِ اسمبلی نے براہِ راست قیادت سے تبادلۂ خیال کی درخواست کی تھی، جس کے بعد حکمراں جماعت کے اندر اختلافات سے متعلق قیاس آرائیاں بڑھ گئی تھیں۔ تاہم آج کی مشاورت کے بعد قیادت نے ارکان کو یقین دلایا کہ تنظیمی رابطہ مضبوط بنانے، حلقہ جاتی مسائل کے فوری حل، اور فیصلہ سازی کے عمل میں منتخب نمائندوں کی آراء کو ترجیح دینے کے لیے ٹھوس لائحہ عمل مرتب کیا جا رہا ہے۔
 
ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے اس موقع پر پارٹی کے اس بنیادی سیاسی مؤقف کو بھی دہرایا کہ جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی اور آئینِ ہند کے آرٹیکل 370 اور آرٹیکل 35-اے کی بحالی کے لیے سیاسی اور قانونی جدوجہد جاری رہے گی۔ ان کے مطابق ریاستی درجہ کی بحالی ہماری اوّلین ترجیح ہے، اور ہم آرٹیکل 370 اور 35-اے کے معاملے کو قانونی چارہ جوئی کے ذریعے سپریم کورٹ تک لے جائیں گے اور اس جدوجہد کو آئینی دائرے میں رہتے ہوئے جاری رکھیں گے۔
 
واضح رہے کہ نیشنل کانفرنس نے اپنے 2024 کے اسمبلی انتخابی منشور میں جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت اور ریاستی درجے کی بحالی کو مرکزی وعدوں کے طور پر شامل کیا تھا۔ دسمبر 2023 میں سپریم کورٹ نے مرکز کی اگست 2019 کی کاروائی کو برقرار رکھا تھا، تاہم ساتھ ہی یہ ہدایت بھی دی تھی کہ جموں و کشمیر میں اسمبلی انتخابات کرائے جائیں اور ریاستی درجہ بحال کرنے کے اقدامات بروقت کیے جائیں۔ اکتوبر 2024 میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے بعد نیشنل کانفرنس سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری اور وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی سربراہی میں این سی کی قیادت والی حکومت نے ذمہ داریاں سنبھالیں۔