Friday, November 06, 2026 | 25 جمادى الأولى 1448
  • News
  • »
  • سیاست
  • »
  • اکھلیش کا سوال: یوگی آدتیہ ناتھ کو کیسے معلوم ہوا کہ 1.27 کروڑ ہندو ووٹ حذف ہوئے؟

اکھلیش کا سوال: یوگی آدتیہ ناتھ کو کیسے معلوم ہوا کہ 1.27 کروڑ ہندو ووٹ حذف ہوئے؟

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: 06 Nov 2026

اکھلیش کا سوال: یوگی آدتیہ ناتھ کو کیسے معلوم ہوا کہ 1.27 کروڑ ہندو ووٹ حذف ہوئے؟
 سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے جمعہ کو پارٹی دفتر میں منعقدہ ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے سخت سوال اٹھایا کہ اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے یہ کیسے جان لیا کہ ووٹر لسٹ سے 1.27 کروڑ ہندو ووٹروں کے نام حذف کر دیے گئے ہیں، جب کہ گزشتہ ہفتے انہوں نے اسی طرح کا دعویٰ کیا تھا۔ انہوں نے استفسار کیا کہ کیا الیکشن کمیشن نے اپنا مکمل ڈیٹا وزیر اعلیٰ یا ان کے دفتر کے ساتھ عوام کو بتانے سے پہلے شیئر کیا ہے، یا پھر یہ محض سیاسی بیانیہ ہے جس سے خوف اور ابہام پیدا ہو رہا ہے۔
 
اکھلیش یادو کے مطابق، وزیر اعلیٰ نے طویل عرصے تک دراندازوں کا مسئلہ اٹھا کر ملک کو خوف کے ماحول میں رکھا اور خصوصی انٹینسیو ریویژن کی حمایت کی، اور اب یہ دعویٰ سامنے لا رہے ہیں کہ بڑے پیمانے پر ووٹ کاٹ دیے گئے۔ ان کے مطابق سوال یہ ہے کہ انہیں مخصوص طور پر ہندو ووٹروں کے ناموں کے کٹنے کی معلومات کیسے حاصل ہوئیں۔ ان کے بقول ایسا لگتا ہے کہ الیکشن کمیشن کا پورا ڈیٹا پہلے وزیر اعلیٰ کے دفتر تک پہنچتا ہے اور بعد میں عوام اور سیاسی جماعتوں کے ساتھ شیئر کیا جاتا ہے۔
 
سابق وزیر اعلیٰ نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ جب مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ لکھنؤ آئے اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی ریاستی ورکنگ کمیٹی کا اجلاس ہوا تو کارکنوں سے کہا گیا کہ وہ اجتماعی طور پر ووٹر لسٹ میں 2 کروڑ نئے نام شامل کرائیں۔ اکھلیش یادو نے دلیل دی کہ اگر ان ہی کے اعداد و شمار کو مان بھی لیا جائے کہ 1.27 کروڑ ووٹر لسٹ سے نکل گئے ہیں تو ہر اسمبلی حلقہ میں اوسطاً تقریباً 31,000 ووٹ کم ہوجاتے ہیں، جس کے سیاسی مضمرات بی جے پی کے لیے نہایت سنگین ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسی احساس نے بی جے پی کو مضطرب کردیا ہے اور وہ نئے نئے حربے تلاش کر رہی ہے۔
 
اکھلیش یادو نے دعویٰ کیا کہ فارم 7 کے ذریعے جو بے ضابطگیاں کی جا رہی تھیں انہیں سماجوادی پارٹی کے کارکنوں نے روکا، اور اب یہ عمل ریاست میں ختم کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کچھ نام بھی پیش کیے — نند لال نشاد، دشر تھ اور وکاس یادو — جن کے ناموں اور کوائف کا مبینہ استعمال ووٹر لسٹ کی تیاری میں بے قاعدگیوں کے لیے کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ چونکہ اب تقریباً ہر شہری کے پاس آدھار ہے، اس لیے ووٹر لسٹ کو آدھار سے منسلک کیا جائے اور بایومیٹرکس کے ذریعے انتخابی دن پر چھیڑ چھاڑ کا امکان ختم کیا جائے۔ انہوں نے حکومت کے ڈیجیٹل انڈیا اور وشوگرو کے نعروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب موبائل فون کی تیاری، انٹرنیٹ صارفین کی تعداد اور ای پیمنٹس میں برتری کے دعوے کیے جاتے ہیں تو بایومیٹرکس سے خوف کیوں؟
 
سماجوادی پارٹی کے سربراہ نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ ووٹ کاٹنے کی کاروائی عوام کی شہریت کمزور کرنے کی ایک منظم سازش ہے۔ ان کے مطابق جب کسی کا نام ووٹر لسٹ سے نکل جاتا ہے تو غریبوں کے لیے سرکاری فلاحی اسکیمیں متاثر ہوتی ہیں، بچوں کے مڈ ڈے میل سے لے کر محنت کشوں کے فوائد تک سب پر زد پڑتی ہے۔