دنیا بھر میں دل کی بیماریاں اموات کی بڑی وجوہات میں شامل ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے مطابق، 2022 میں تقریباً ایک کروڑ 98 لاکھ افراد قلبی امراض کے باعث ہلاک ہوئے۔ ان میں سے تقریباً 85 فیصد اموات ہارٹ اٹیک اور فالج کی وجہ سے ہوئیں۔ لیکن یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہارٹ اٹیک اور کارڈیک اریسٹ دو الگ الگ طبی حالتیں ہیں۔ ہارٹ اٹیک اس وقت ہوتا ہے جب دل کو خون پہنچانے والی شریان میں رکاوٹ پیدا ہو جاتی ہے، جبکہ کارڈیک اریسٹ میں دل اچانک خون پمپ کرنا بند کر دیتا ہے۔ ایسی صورت میں مریض بے ہوش ہو سکتا ہے اور معمول کے مطابق سانس لینا بھی بند کر سکتا ہے۔ یہ انتہائی ہنگامی حالت ہوتی ہے، جہاں ہر گزرتا ہوا منٹ اہمیت رکھتا ہے۔
بھارت میں دل کی بیماریوں سے اموات کی تشویش ناک صورتحال
بھارت میں بھی دل اور خون کی گردش سے متعلق بیماریوں کے باعث اموات ایک بڑا چیلنج بن چکی ہیں۔ انسٹی ٹیوٹ فار ہیلتھ میٹرکس اینڈ ایویلیوایشن (IHME) کے اعداد و شمار پر مبنی تحقیق کے مطابق، 2023 میں بھارت میں تقریباً 31 لاکھ 20 ہزار افراد قلبی امراض کے باعث جان سے گئے۔ اس کا مطلب ہے کہ ملک میں اوسطاً ہر روز تقریباً 8 ہزار 550 افراد دل اور خون کی گردش سے متعلق بیماریوں کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔ واضح رہے کہ یہ اعداد و شمار صرف ہارٹ اٹیک کے نہیں بلکہ تمام قلبی امراض سے ہونے والی اموات کو ظاہر کرتے ہیں۔
کارڈیک اریسٹ کے وقت CPR کیوں ضروری ہے؟
کارڈیک اریسٹ کی صورت میں فوری مدد نہ ملنے سے مریض کی جان کو خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ایسے وقت میں CPR یعنی کارڈیو پلمونری ریسیسیٹیشن (Cardiopulmonary Resuscitation) زندگی بچانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ CPR ایک ہنگامی طبی طریقہ ہے جس میں مریض کے سینے کے درمیان مخصوص انداز میں دباؤ ڈالا جاتا ہے۔ اس کا مقصد دل کے اچانک کام بند کرنے کی صورت میں دماغ اور جسم کے اہم حصوں تک خون کی گردش کسی حد تک برقرار رکھنا ہے، تاکہ طبی امداد پہنچنے تک مریض کو سہارا مل سکے۔امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے مطابق، کارڈیک اریسٹ کے فوراً بعد CPR شروع کرنے سے مریض کے زندہ بچنے کے امکانات دو سے تین گنا تک بڑھ سکتے ہیں۔
بھارت میں عام لوگوں کی جانب سے CPR دینے کی شرح کم
سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا بھارت کے عام شہریوں کو معلوم ہے کہ کارڈیک اریسٹ کی صورت میں کسی شخص کی مدد کیسے کرنی ہے؟ بھارت میں ہونے والی مختلف طبی تحقیقات کے ایک جائزے کے مطابق، اسپتال سے باہر کارڈیک اریسٹ کے مریضوں کو عام شہریوں کی جانب سے CPR دینے کی شرح مختلف مطالعات میں صرف 1.3 فیصد سے 9.8 فیصد کے درمیان رہی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ کئی مواقع پر مریض کے آس پاس موجود لوگ یہ نہیں جانتے کہ ایسی ہنگامی صورتِ حال میں کیا قدم اٹھانا چاہیے۔ اس کے مقابلے میں امریکہ میں 2024 کے دوران اسپتال سے باہر کارڈیک اریسٹ کے واقعات میں عام شہریوں کی جانب سے CPR دینے کی شرح 41.7 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ یہ فرق عوامی سطح پر CPR کی تربیت کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔
کارڈیک اریسٹ کی صورت میں عام شہری کیا کریں؟
طبی رہنمائی کے مطابق، اگر کوئی شخص اچانک بے ہوش ہو جائے اور معمول کے مطابق سانس نہ لے رہا ہو تو فوری طور پر ایمرجنسی سروس کو اطلاع دیں۔ اس کے بعد مدد پہنچنے کا انتظار کیے بغیر CPR شروع کرنے کی کوشش کریں۔ بالغ شخص کے سینے کے درمیان ہر منٹ میں 100 سے 120 مرتبہ دباؤ ڈالنا چاہیے۔ اگر خودکار برقی جھٹکا دینے والی مشین یعنی AED دستیاب ہو تو اسے استعمال کریں اور اس کی ہدایات پر عمل کریں۔ تربیت یافتہ افراد 30 مرتبہ سینے پر دباؤ ڈالنے کے بعد دو مرتبہ سانس دینے کا طریقہ اختیار کر سکتے ہیں۔ اگر کوئی شخص سانس دینے کی تربیت نہیں رکھتا تو صرف سینے پر مسلسل دباؤ ڈالنا بھی مددگار ہو سکتا ہے۔ یاد رہے کہ CPR کی عملی تربیت حاصل کرنا زیادہ بہتر ہے۔
اسکولوں، کالجوں اور عوامی مقامات پر CPR کی تربیت کیوں ضروری؟
دنیا بھر میں دل کی بیماریوں سے ہونے والی لاکھوں اموات کے درمیان ایک اہم سوال یہ ہے کہ کیا CPR کی تربیت صرف ڈاکٹروں اور طبی عملے تک محدود رہنی چاہیے یا ہر عام شہری کو بھی یہ سکھانا ضروری ہے؟ اسکولوں، کالجوں، دفاتر، ریلوے اسٹیشنوں، ہوائی اڈوں اور دیگر عوامی مقامات پر CPR کی تربیت اور AED مشینوں کی دستیابی پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ کارڈیک اریسٹ کے وقت ایمبولینس پہنچنے سے پہلے کسی عام شہری کی بروقت مدد بھی زندگی بچانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
حیدرآباد میں High Five Tribe Group کی تربیتی مہم
ملک میں جہاں عام لوگوں کو CPR کی تربیت دینے کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے، وہیں حیدرآباد میں اس حوالے سے ایک اہم کوشش سامنے آئی ہے۔ شہر میں سرگرم High Five Tribe Group نے صحت اور عوامی بیداری کے تحت CPR کی تربیتی مہم کا انعقاد کیا۔ اس تربیت میں شہر کے کئی لوگوں نے حصہ لیا اور کارڈیک اریسٹ جیسی ہنگامی صورتِ حال میں CPR دینے کا طریقہ سیکھا، تاکہ ضرورت پڑنے پر وہ کسی کی جان بچانے کے لیے ابتدائی مدد فراہم کر سکیں۔
یہ مہم اس بات کی یاد دہانی ہے کہ زندگی بچانے کی ذمہ داری صرف ڈاکٹروں اور اسپتالوں تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ عام شہریوں کو بھی بنیادی طبی امداد کی تربیت دینا ضروری ہے۔ کیونکہ بعض اوقات اسپتال پہنچنے سے پہلے کے چند منٹ ہی کسی انسان کی زندگی اور موت کے درمیان فرق پیدا کر سکتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ CPR کی تربیت کو عام کیا جائے، تاکہ کوئی شخص صرف اس وجہ سے اپنی جان نہ گنوائے کہ ہنگامی وقت میں اس کے آس پاس مدد کرنے والا کوئی موجود نہیں تھا۔






