Wednesday, October 07, 2026 | 24 ربيع الآخر 1448
  • News
  • »
  • صحت
  • »
  • ذیابیطس کو کیسے جانیں، کیسے کنٹرول کریں اور زندگی کیسے بہتر گزاریں

ذیابیطس کو کیسے جانیں، کیسے کنٹرول کریں اور زندگی کیسے بہتر گزاریں

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: 07 Oct 2026

ذیابیطس کو کیسے جانیں، کیسے کنٹرول کریں اور زندگی کیسے بہتر گزاریں
 ذیابیطس (شوگر)آج ایک عام بیماری بن چکی ہے، لیکن اس کے ساتھ زندگی گزارنے کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اپنی معمول کی زندگی یا پسندیدہ سرگرمیوں سے محروم ہو جائے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ بیماری کو سمجھا جائے، خون میں شوگر کی سطح کو قابو میں رکھا جائے اور روزمرہ عادات میں ایسی تبدیلیاں لائی جائیں جو صحت کے لیے فائدہ مند ہوں۔
 
اسی اہم موضوع پر منصف ٹی وی کے خصوصی پروگرام ’ہیلتھ اور ہم‘ میں “Diabetes: Know It, Control It. Live Better.” پر
Dr. Maddipatla Hari Krishna، Consultant Physician & Diabetologist، Kamineni Hospitals، King Koti ، Hyderabad نے تفصیلی روشنی ڈالی۔
 
ذیابیطس اس وقت ہوتی ہے جب جسم خون میں موجود گلوکوز کو مناسب طریقے سے استعمال یا کنٹرول نہیں کر پاتا۔ اس کا تعلق انسولین کی کمی یا جسم میں انسولین کے مؤثر استعمال میں رکاوٹ سے ہو سکتا ہے۔ ٹائپ 2 ذیابیطس سب سے عام قسم ہے، جس کے خطرے میں خاندانی تاریخ، جسمانی سرگرمی کی کمی، غیر متوازن غذا، وزن میں اضافہ اور بعض دیگر عوامل کردار ادا کر سکتے ہیں۔
 
ذیابیطس کی ایک خاص بات یہ ہے کہ بعض افراد میں شوگر بڑھنے کے باوجود واضح علامات نہیں ہوتیں۔ تاہم زیادہ پیاس لگنا، بار بار پیشاب آنا، غیر معمولی تھکن، نظر دھندلانا، وزن میں غیر متوقع تبدیلی اور زخم کا دیر سے بھرنا ممکنہ علامات میں شامل ہیں۔ اسی لیے صرف علامات کا انتظار کرنے کے بجائے ضرورت کے مطابق بلڈ شوگر اور HbA1c کی جانچ کرانا اہم ہے۔
 
ماہرین کے مطابق ذیابیطس کو کنٹرول کرنے میں صرف دوا ہی کافی نہیں ہوتی۔ متوازن غذا، مناسب جسمانی سرگرمی، وزن کو صحت مند حد میں رکھنا، مناسب نیند اور ذہنی دباؤ کو کم کرنے کی کوشش بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ کھانے میں سبزیاں، دالیں، ثابت اناج اور مناسب مقدار میں پروٹین شامل کرنا جبکہ بہت زیادہ چینی، میٹھے مشروبات اور الٹرا پروسیسڈ غذاؤں کو محدود کرنا مفید ہو سکتا ہے۔
 
ادویات یا انسولین کا استعمال ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق کرنا چاہیے۔ شوگر کی سطح بہتر آنے پر بھی دوا خود سے بند کرنا مناسب نہیں، کیونکہ ذیابیطس ایک ایسی بیماری ہے جس میں مسلسل نگرانی ضروری ہوتی ہے۔
 
اگر خون میں شوگر طویل عرصے تک زیادہ رہے تو دل، گردوں، آنکھوں، اعصاب اور خون کی نالیوں پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ اسی لیے ذیابیطس کے ساتھ بلڈ پریشر، کولیسٹرول اور وزن پر بھی نظر رکھنا ضروری ہے۔
 
ماہرین کا کہنا ہے کہ ذیابیطس کو خوف کی نظر سے دیکھنے کے بجائے اسے سمجھ کر منظم کرنا چاہیے۔ باقاعدہ طبی معائنہ، صحت مند طرز زندگی اور ڈاکٹر کی ہدایات پر عمل کے ذریعے شوگر کو بہتر طور پر قابو میں رکھا جا سکتا ہے اور ایک فعال، صحت مند اور بہتر زندگی گزاری جا سکتی ہے۔
 
قارئین آپ ڈاکٹرایم ہری کرشنا، کنسلٹنٹ فزیشن اورماہرذیا بیطس کامینینی ہاسپٹل، کنگ کوٹھی حیدرآبا کی مکمل گفتگو👇یہاں دیکھ سکتےہیں۔ ساتھ ہی منصف ٹی وی ہیلتھ پر صحت سے متعلق ہزاروں ویڈیوز بھی دیکھ سکتےہیں۔