امریکی صدر نے امداد ختم کرنے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو اپنے دفاع کے لیے زیادہ خود انحصار ہونا چاہیے
مجوزہ تبدیلی پر کانگریس کی منظوری اہم ہوگی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کو دی جانے والی سالانہ تقریباً 4 ارب ڈالر کی فوجی امداد ختم کرنے کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ ان کے اس بیان نے امریکہ اور اسرائیل کے درمیان طویل عرصے سے جاری دفاعی تعاون کے مستقبل پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ واشنگٹن میں ایک سیاسی اجتماع اور بعد میں میڈیا سے گفتگو کے دوران ٹرمپ نے کہا کہ امریکی مفادات اور ٹیکس دہندگان کے پیسے کا مؤثر استعمال ان کی ترجیحات میں شامل ہے۔ ان کے مطابق اسرائیل کو اپنی دفاعی ضروریات پوری کرنے کے لیے زیادہ خود انحصاری اختیار کرنی چاہیے اور اسے امریکی فوجی امداد پر مسلسل انحصار نہیں کرنا چاہیے۔
امداد میں کمی کے پیچھے کیا وجہ ہے؟
ٹرمپ کے اس مؤقف کو امریکہ کی داخلی ترجیحات سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکی حکومت کو یہ دیکھنا چاہیے کہ بیرون ملک دی جانے والی امداد سے امریکہ کو کیا فائدہ پہنچ رہا ہے اور ٹیکس دہندگان کا پیسہ کس طرح استعمال ہو رہا ہے۔ ان کے بیان سے یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ مستقبل میں اسرائیل کو دی جانے والی فوجی امداد غیر مشروط رکھنے کے بجائے اسے مخصوص شرائط سے جوڑا جا سکتا ہے۔ تاہم، ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ امریکی انتظامیہ امداد مکمل طور پر ختم کرنا چاہتی ہے یا اس میں مرحلہ وار کمی اور نئی شرائط نافذ کرنے پر غور کر رہی ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کے دفاعی تعلقات پر سوال
اسرائیل کو امریکی فوجی امداد کئی دہائیوں سے دونوں ملکوں کے دفاعی تعاون کا اہم حصہ رہی ہے۔ اس کے تحت اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی، فوجی سازوسامان اور جدید دفاعی ٹیکنالوجی کے حصول میں مدد ملتی رہی ہے۔ ٹرمپ کے تازہ بیان کے بعد یہ سوال اٹھنے لگا ہے کہ اگر امریکی امداد میں بڑی کمی کی جاتی ہے تو اس کا اسرائیل کی دفاعی صلاحیت اور مشرق وسطیٰ میں طاقت کے توازن پر کیا اثر پڑے گا۔
اس مجوزہ تبدیلی پر مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں۔ ناقدین کا خیال ہے کہ امداد میں کمی سے اسرائیل کی فوری دفاعی ضروریات متاثر ہو سکتی ہیں اور خطے میں امریکہ کے اثر و رسوخ پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ دوسری جانب اس اقدام کے حامیوں کا کہنا ہے کہ امداد کو شرائط اور کارکردگی سے جوڑنے سے امریکی حکومت کو اپنے وسائل کے استعمال پر زیادہ اختیار حاصل ہوگا۔
کانگریس کی منظوری کے بغیر فیصلہ نافذ کرنا آسان نہیں
اگرچہ ٹرمپ نے اسرائیل کی فوجی امداد ختم کرنے کی حمایت کی ہے، لیکن اس فیصلے کو عملی شکل دینا آسان نہیں ہوگا۔ امدادی پروگرام میں بڑی تبدیلی کے لیے کانگریس کی منظوری اور قانونی و انتظامی کارروائی ضروری ہوگی۔ امریکی کانگریس میں دونوں بڑی جماعتوں کے ارکان اس معاملے پر مختلف رائے رکھتے ہیں۔ اسی لیے یہ واضح نہیں کہ امداد میں کمی یا اسے ختم کرنے کی تجویز کو کتنی حمایت حاصل ہو سکتی ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق، اس بحث کا اہم سوال یہی ہے کہ امریکہ اسرائیل کو دی جانے والی فوجی امداد مستقبل میں کس حد تک جاری رکھے گا اور اسے کن شرائط سے جوڑا جائے گا۔ فی الحال نہ امداد ختم کرنے کی کوئی حتمی تاریخ سامنے آئی ہے اور نہ ہی اس تبدیلی کے نفاذ کا طریقہ واضح کیا گیا ہے۔






