Wednesday, November 04, 2026 | 23 جمادى الأولى 1448
  • News
  • »
  • سیاست
  • »
  • راہل گاندھی کا وزیر اعظم مودی کو کھلا مباحثے کا چیلنج، موہن بھاگوت کو جج بنانے کی تجویز

راہل گاندھی کا وزیر اعظم مودی کو کھلا مباحثے کا چیلنج، موہن بھاگوت کو جج بنانے کی تجویز

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Md Shahbaz | Last Updated: 04 Nov 2026

راہل گاندھی کا وزیر اعظم مودی کو کھلا مباحثے کا چیلنج، موہن بھاگوت کو جج بنانے کی تجویز
دیوالی کے پیغام میں کانگریس رہنما نے امریکہ کے ساتھ معاہدے
اڈانی معاملے، مالیاتی نظام اور مبینہ بیرونی روابط پر کھلی بحث کا مطالبہ کیا۔
 
کانگریس رہنما راہل گاندھی نے ایک بار پھر وزیر اعظم نریندر مودی کو کھلے عام مباحثے کا چیلنج دیا ہے۔ دیوالی کے موقع پر اپنے پیغام میں ہاتھ میں گلاب کا پھول لیے راہل گاندھی نے کہا کہ وہ وزیر اعظم کے ساتھ کسی بھی موضوع پر اور کسی بھی پلیٹ فارم پر بحث کرنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے وزیر اعظم سے اپیل کی کہ وہ سامنے آئیں اور ملک کے اہم مسائل پر براہِ راست بات کریں، تاکہ عوام کے سامنے حقیقت واضح ہو سکے۔
 
راہل گاندھی نے اپنے پیغام میں کئی ایسے معاملات کا ذکر کیا جن پر وہ وزیر اعظم سے جواب چاہتے ہیں۔ ان میں امریکہ کے ساتھ ہونے والا معاہدہ، صنعت کار گوتم اڈانی سے متعلق معاملہ، ملک کا مالیاتی نظام اور مبینہ بیرونی روابط جیسے موضوعات شامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان معاملات پر صرف بیانات دینے کے بجائے کھلی بحث ہونی چاہیے، تاکہ دونوں جانب کے مؤقف عوام کے سامنے آ سکیں۔
 
ملک مخالف الزامات پر بھی بحث کا مطالبہ
 
راہل گاندھی نے کہا کہ اگر ان پر یا کسی دوسرے سیاسی رہنما پر ملک مخالف سرگرمیوں یا بیرونی طاقتوں سے روابط کے الزامات لگائے جاتے ہیں تو ان پر بھی کھل کر بات ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق ایسے سنگین الزامات کو سیاسی بیانات تک محدود رکھنے کے بجائے عوام کے سامنے ان کی وضاحت ہونی چاہیے۔ کانگریس رہنما نے زور دیا کہ جمہوریت میں اہم قومی معاملات پر سوال پوچھنا اور ان کے جواب حاصل کرنا ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ ملک سے متعلق اہم فیصلے کس بنیاد پر کیے جا رہے ہیں اور ان کے پیچھے کیا حقائق ہیں۔
 
موہن بھاگوت کو جج بنانے کی تجویز
 
اس مباحثے کو لے کر راہل گاندھی نے ایک منفرد تجویز بھی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر وزیر اعظم چاہیں تو آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کو اس مباحثے میں جج بنایا جا سکتا ہے۔ اس تجویز کے ذریعے انہوں نے یہ پیغام دینے کی کوشش کی کہ انہیں مباحثے کے لیے کسی بھی غیر جانب دار یا قابلِ قبول پلیٹ فارم پر اعتراض نہیں ہے۔راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی سے کہا کہ وہ اس چیلنج کو قبول کریں اور عوام کے سامنے آ کر اہم سوالات کے جواب دیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ بحث سے پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں اور کسی بھی موضوع پر اپنا مؤقف پیش کرنے کے لیے تیار ہیں۔
 
سیاسی ماحول میں پھر بحث تیز
 
راہل گاندھی کے اس بیان کے بعد سیاسی حلقوں میں ایک بار پھر وزیر اعظم اور اپوزیشن کے درمیان کھلی بحث کے مطالبے پر گفتگو شروع ہوگئی ہے۔ اپوزیشن مسلسل حکومت سے مختلف قومی اور معاشی معاملات پر جواب طلب کرتی رہی ہے، جبکہ حکومت کی جانب سے بھی ان الزامات پر مختلف مواقع پر اپنا مؤقف پیش کیا گیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ وزیر اعظم نریندر مودی یا بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے راہل گاندھی کے اس تازہ چیلنج پر کیا ردعمل سامنے آتا ہے۔ فی الحال راہل گاندھی نے واضح کر دیا ہے کہ وہ کسی بھی وقت، کسی بھی جگہ اور کسی بھی موضوع پر مباحثے کے لیے تیار ہیں۔