جمعہ کی شام حیدرآباد کے کئی علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ موسلا دھار بارش ہوئی۔ شہر میں اچانک ہوئی بارش نے نظام زندگی کو درہم برہم کر کے رکھ دیا۔ ایک گھنٹے سے زائد مسلسل بارش کے بعد کئی اہم سڑکیں زیر آب آگئیں۔ جس سے ٹریفک نظام متاثر ہوا۔ نالے بہہ گئے، کئی نشیبی علاقے زیر آب آ گئے۔
شہر کے بڑے علاقوں خیریت آباد، پنجہ گٹہ، سوماجی گوڑا، امیرپیٹ، ایس آر نگر، جوبلی ہلز، بنجارہ ہلز اور فلم نگر میں سیلاب کا پانی سڑکوں پر جمع ہوگیا۔ جس سے دفاتر سے گھر جانے والے ملازمین اور موٹر سائیکل سواروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ شام کے رش کے وقت ٹریفک کے مسائل دوگنا ہو گئے۔
آئی ٹی کوریڈور میں صورتحال خاصی سنگین تھی۔ مادھا پور، ہائی ٹیک سٹی، کے پی ایچ بی، مائنڈ اسپیس اور آئی کیا کے راستوں پر گاڑیوں کی کلومیٹر لمبی قطاریں لگ گئیں۔ مادھا پور سٹی وائنس میں مرکزی سڑک تالاب میں تبدیل ہونے سے ٹریفک مکمل طور پر مفلوج ہو کر رہ گئی۔ قطب اللہ پور سے سورارم اور شاہ پور سے گجولارامام تک بھی زبردست ٹریفک جام رہا۔ بارش کی وجہ سے کچھ مسافروں نے میٹرو کے ستونوں کے نیچے پناہ لی جبکہ دیگر گھنٹوں ٹریفک میں پھنسے رہے۔
یہی صورت حال شہر کے مضافاتی علاقوں اپل، ایل بی نگر، منی کنڈا، رائےدرگم اور راجندر نگر میں دیکھی گئی۔ تاہم بارش سے شہر میں گزشتہ چند دنوں سے شدید گرمی سے پریشان لوگوں کو کچھ راحت ملی۔
شہر کے علاقے کاپرا، گھٹکیسر، کیسارا، انوجی گوڑا، ڈومائی گوڑا، نگارام، بوڈوپل، رام پلی، پیرزادی گوڑا، میڈی پلی اور چرلہ پلی سمیت کئی علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش ہوئی۔
ناگول، سرور نگر، ایل بی نگر، حیات نگر اور بی این ریڈی نگر کے احاطہ میں سرور نگر – ایل بی نگر میں بھی موسلادھار بارش کی بھی اطلاع ملی۔ ٓاپل، دلسکھ نگر، سعیدآباد، ملک پیٹ، راجندر نگر اور چندرائن گٹہ کے ساتھ ساتھ مرکزی علاقوں جیسے عابڈس، نامپلی، خیریت آباد اور حمایت نگر میں بھی بارش ہوئی ۔
مغربی حیدرآباد میں نانک رام گوڑا، منی کونڈہ، شخ پیٹ، ٹولی چوکی اور گچی باولی میں شدید بارش ہوئی ۔ ناگول، میڈی پلی، ناچارم، ای سی آئی ایل، ملاپور، ناگارم، گولکنڈہ اور شمس آباد میں درمیانی سے بھاری بارش ہوئی ۔
وسیع پیمانے پر ہوئی بارش نے طویل خشک موسم کے بعد کئی علاقوں ک ےعوام نے راحت محسوس کی ۔ حکام نے عوام شہر کے مختلف حصوں میں گرج چمک اور مزید بارش کے پیش نظر مسافروں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے سفر کی منصوبہ بندی کریں اور پانی بھرے راستوں سے سفر کرتے ہوئے احتیاط برتیں۔







