Saturday, October 31, 2026 | 19 جمادى الأولى 1448
  • News
  • »
  • کاروبار
  • »
  • یکم نومبر سے اسمارٹ فون اسکرین پر نظر آئے گاکالر کا نام

یکم نومبر سے اسمارٹ فون اسکرین پر نظر آئے گاکالر کا نام

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: 31 Oct 2026

یکم نومبر سے اسمارٹ فون اسکرین پر نظر آئے گاکالر کا نام
حکومت ہند کے محکمۂ ٹیلی کمیونیکیشن نے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے ملک بھر میں کالر نیم پریزنٹیشن یعنی ’سی این اے پی‘ سروس کے نفاذ کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت 1 نومبر سے تمام اسمارٹ فون صارفین کو نامعلوم کال کرنے والے شخص کا نام ان کے فون کی اسکرین پر دکھائی دے گا۔ یہ اقدام ٹیلی کام سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کو جاری کی گئی حالیہ ہدایات کے بعد کیا جا رہا ہے، اور اس کا مقصد فون دھوکہ دہی، اسپام کالز اور سائبر جرم پر قابو پانا بتایا جا رہا ہے۔ فی الوقت یہ سہولت 4جی اور 5جی نیٹ ورکس پر کام کرے گی، جب کہ آئندہ مرحلوں میں اسے 2جی اور 3جی صارفین کے لیے بھی متعارف کرانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔
 
حکومت نے واضح کیا ہے کہ یہ نظام اس اصول پر کام کرے گا کہ اگر کال موصول کرنے والے کے کانٹیکٹس میں کالر کا نام محفوظ ہے تو فون پر وہی محفوظ شدہ نام نظر آئے گا، لیکن اگر نمبر محفوظ نہیں ہے تو موبائل نمبر کے نیچے کالر کا وہ اصل نام ظاہر ہوگا جس کے نام پر سم کارڈ جاری کیا گیا تھا۔ یوں صارفین کو فوراً اندازہ ہو سکے گا کہ کون انہیں کال کر رہا ہے۔ بین الاقوامی نمبروں سے آنے والی کالز پر واضح طور پر ’انٹرنیشنل کال‘ تحریر آئے گی، تاکہ شہریوں کو ملک سے باہر کے ذرائع سے کی جانے والی رابطہ کوششوں کے بارے میں فوری تنبیہ مل سکے۔
 
ڈی او ٹی کے مطابق یہ سروس نوعیت کے اعتبار سے ٹروکالر جیسی تیسری پارٹی ایپس سے ملتی جلتی محسوس ہو سکتی ہے، لیکن فرق یہ ہے کہ سی این اے پی کا ڈیٹا نیٹ ورک اور رجسٹریشن کی سطح پر تصدیق شدہ سبسکرائبر معلومات سے مربوط ہوگا، جس سے غلط نام ظاہر ہونے کے امکانات کم ہوں گے۔ اس طرح صارفین کے لیے غیر معروف نمبروں کی شناخت زیادہ قابلِ بھروسہ ہوگی اور انہیں غیر ضروری یا مشکوک کالز سے نمٹنے میں آسانی ہوگی۔
 
یہ اقدام کیوں کیا جا رہا ہے؟ حکام کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں ہر سال سائبر دھوکہ دہی کے ہزاروں واقعات رپورٹ ہوتے ہیں اور لاکھوں شہریوں کے بینک کھاتے خالی ہونے جیسی وارداتیں سامنے آتی ہیں۔ فراڈی گروہ اکثر بیرون ملک سے کال کرتے ہیں یا ملک کے اندر مختلف نمبروں کا سہارا لیتے ہیں۔ سی این اے پی کے نفاذ سے کم از کم پہلی سطح پر کالر کی شناخت سامنے آجانے سے لوگوں کو فوری فیصلہ کرنے میں مدد ملے گی کہ کال اٹھانی چاہیے یا نہیں۔ اس کے ساتھ ہی قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ٹیلی کام کمپنیوں کے لیے مشتبہ پیٹرنز کی نشاندہی بھی آسان ہو گی۔
 
 محکمۂ ٹیلی کمیونیکیشن نے کہا ہے کہ 1 نومبر سے ملک بھر کے تمام بڑے ٹیلی کام نیٹ ورکس پر 4جی اور 5جی صارفین کے لیے یہ فیچر تدریجاً فعال کیا جائے گا۔ صارفین کو اپنے اسمارٹ فون میں کسی اضافی ایپ کی تنصیب یا پیچیدہ سیٹنگ کی ضرورت نہیں پڑے گی؛ جیسے ہی نیٹ ورک پر سہولت فعال ہوگی، نامعلوم نمبر سے کال آنے پر کالر نیم اسکرین پر دکھنے لگے گا۔ 
 
یہ کیسے کام کرے گا؟ جیسے ہی کوئی شخص کسی صارف کو کال کرتا ہے، نیٹ ورک کال سیٹ اپ کے دوران رجسٹرڈ سبسکرائبر نیم میچنگ کے ذریعے کال وصول کرنے والے فریق تک منتقل کرے گا۔ اگر کال وصول کرنے والے کے فون بک میں نام پہلے سے محفوظ ہوا تو وہی نام ترجیحی طور پر نظر آئے گا، بصورت دیگر سم کارڈ ہولڈر کا رجسٹرڈ نام ظاہر ہوگا۔