Saturday, October 10, 2026 | 27 ربيع الآخر 1448
  • News
  • »
  • سیاست
  • »
  • گیانیش کمار کے خلاف مارچ کرنے والے وکلا، دہلی پولیس کی حراست میں

گیانیش کمار کے خلاف مارچ کرنے والے وکلا، دہلی پولیس کی حراست میں

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Md Shahbaz | Last Updated: 10 Oct 2026

گیانیش کمار کے خلاف مارچ کرنے والے وکلا،  دہلی پولیس کی حراست میں
دہلی میں ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی (اسپیشل انٹینسیو ریویژن، SIR) کے خلاف احتجاج کرنے والے وکلاء کو پولیس کی جانب سے حراست میں لیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ وکلاء ووٹر لسٹ کی نظرثانی کے عمل کے خلاف مارچ کر رہے تھے، اسی دوران پولیس نے مداخلت کرتے ہوئے انہیں حراست میں لے لیا۔ اس کارروائی کے بعد احتجاج کرنے والوں کی نقل و حرکت اور پولیس کے طریقۂ کار پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب 10 اکتوبر کو دہلی کے جنتر منتر پر ووٹر لسٹ کی نظرثانی اور انتخابی عمل سے متعلق امور کے خلاف احتجاج کر رہی تھی۔ 
 
SIR کے خلاف وکلاء کا مارچ
 
ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی ایک ایسا عمل ہے جس کے تحت انتخابی فہرستوں کی جانچ اور ان میں ضروری تبدیلیاں کی جاتی ہیں۔ اس عمل کے دوران ووٹروں کی تفصیلات کی تصدیق کی جاتی ہے اور انتخابی فہرستوں کو درست بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ تاہم، اس عمل کے طریقۂ کار، اس کے نفاذ اور ووٹروں پر پڑنے والے ممکنہ اثرات کو لے کر بعض حلقوں میں اعتراضات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ دہلی میں مارچ کرنے والے وکلاء بھی اسی معاملے پر احتجاج کر رہے تھے۔ میڈیا رپورٹ  کے مطابق، پولیس نے مارچ کے دوران انہیں حراست میں لے لیا۔ تاہم، یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ پولیس نے وکلاء کو کس مقام پر حراست میں لے رکھا ہے، انہیں حراست میں لینے کی کیا وجہ بتائی گئی اور آیا انہیں بعد میں رہا کیا گیا یا نہیں۔
 
احتجاج اور مارچ جمہوری عمل میں اپنی بات رکھنے کے ذرائع ہیں، جبکہ پولیس امن و امان برقرار رکھنے اور متعلقہ ضابطوں پر عمل درآمد کی ذمہ دار ہوتی ہے۔ ایسے معاملات میں کارروائی کی وجوہات اور قانونی بنیاد واضح ہونا ضروری ہے، تاکہ صورتِ حال کے تمام پہلو سامنے آ سکیں۔ فی الحال حراست میں لیے گئے وکلاء کی تعداد، ان کی شناخت، پولیس کی کارروائی کی تفصیلات اور ان کی موجودہ صورتِ حال کے بارے میں مکمل معلومات دستیاب نہیں ہیں۔ دہلی پولیس کا تفصیلی مؤقف بھی سامنے آنا باقی ہے۔ مزید تفصیلات سامنے آنے کے بعد ہی اس کارروائی کی مکمل صورتِ حال واضح ہو سکے گی۔