دہلی میں ووٹر لسٹ کی خصوصی اور تفصیلی نظرثانی (SIR) کے خلاف احتجاج سے پہلے دارالحکومت میں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ جنتر منتر جانے کی کوشش کرنے والے متعدد افراد کو پولیس نے حراست میں لے لیا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق AISA کی رہنما نیہا بورا، سماجی کارکن یوگیندر یادو اور معروف وکیل پرشانت بھوشن کو بھی اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ دلی ہاٹ کی طرف جا رہے تھے۔ پولیس کی جانب سے جنتر منتر جانے والے کم از کم 200 افراد کو حراست میں لیے جانے کی اطلاعات کے بعد احتجاج میں شامل کارکنوں نے لوگوں سے دلی ہاٹ پہنچنے کی اپیل کی۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ ووٹر لسٹ کی نظرثانی اور انتخابی عمل سے متعلق اپنے اعتراضات سامنے رکھنا چاہتے ہیں۔
اس سے قبل کاکروچ جنتا پارٹی کے تین رہنماؤں، ابھیجیت دیپکے، سوربھ داس اور آشوتوش رانکا کو دہلی میں طیارے کے اترتے ہی حراست میں لیے جانے کی اطلاع سامنے آئی تھی۔ پارٹی کے مطابق، یہ رہنما چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف جنتر منتر پر مجوزہ احتجاج میں شرکت کے لیے ممبئی سے دہلی پہنچے تھے۔ CJP نے اس کارروائی کو احتجاج میں شرکت سے روکنے کی مبینہ کوشش قرار دیا اور رہنماؤں کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا۔ بعد میں پارٹی نے ایک ویڈیو جاری کرتے ہوئے اعلان کیا کہ اگر اس کے رہنما حراست میں رہتے ہیں تو تنظیمی انچارج اجنکیا شنڈے احتجاج کی قیادت کریں گے۔ پولیس ذرائع کے حوالے سے یہ اطلاع بھی سامنے آئی کہ یوٹیوبر دھرو راٹھی کو گڑگاؤں کے سیکٹر 56 میں واقع ان کی رہائش گاہ سے حراست میں لیا گیا۔ بتایا گیا کہ وہ بھی مجوزہ احتجاج میں شرکت کرنے والے تھے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق، دارالحکومت میں پولیس اور نیم فوجی دستوں کے تقریباً 27 ہزار اہلکار تعینات کیے گئے۔ 40 سے زیادہ میٹرو اسٹیشنوں پر داخلے اور باہر نکلنے پر پابندیاں عائد کیے جانے، وسطی دہلی میں ٹریفک کا رخ تبدیل کرنے اور دوپہر دو بجے تک 250 سے زائد ٹرینیں منسوخ کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ پولیس ذرائع نے دعویٰ کیا کہ رات بھر میں کم از کم 1,200 افراد کو حراست میں لیا گیا۔ تاہم، ان اعداد و شمار اور حراست میں لیے گئے ہیں۔
CJP نے چیف الیکشن کمشنر پر الزام لگایا ہے کہ ووٹر لسٹوں کی خصوصی نظرثانی اور ووٹر رجسٹریشن کے لیے استعمال ہونے والے فارم 6 سے متعلق تبدیلیوں کے دوران انتخابی فہرستوں میں ردوبدل کیا گیا۔ دہلی پولیس نے پہلے احتجاج کی اجازت دینے سے انکار کرتے ہوئے سکیورٹی خدشات، ناکافی پیشگی نوٹس اور گزشتہ مظاہروں کے دوران شرائط کی خلاف ورزیوں کا حوالہ دیا تھا۔ بتایا گیا کہ احتجاج کی درخواست 7 اکتوبر کو دی گئی، جبکہ مقررہ طریقۂ کار کے تحت 10 دن پہلے نوٹس دینا ضروری تھا۔ احتجاج کے معاملے میں اب اہم سوال یہ ہے کہ حراست میں لیے گئے افراد کی قانونی حیثیت کیا ہے، انہیں کب رہا کیا جائے گا اور مجوزہ مظاہرے کے حوالے سے پولیس مزید کیا اقدامات کرتی ہے۔






