خواتین کی صحت اور ان سے جڑے حساس مسائل کے حوالے سے شعور بیدار کرنے کے لیے منصف ٹی وی کا خاص پروگرام 'ہیلتھ اور ہم' ہمیشہ سے پیش پیش رہا ہے۔ اس سلسلے کی حالیہ کڑی میں ایک انتہائی اہم اور حساس موضوع "مینوپاز اور پوسٹ مینوپازل بلیڈنگ" (Menopause and Post-Menopausal Bleeding) پرماہرِ امراضِ نسواں ڈاکٹر ملیحہ فاطمہتفصیلی روشنی ڈالی گئی۔
اس خصوصی پروگرام میں مہمانِ اعزازی اور ماہرِ امراضِ نسواں ڈاکٹر ملیحہ فاطمہ (MBBS, DGO, DNB - کنسلٹنٹ آابسٹیٹریشن اینڈ گائناکالوجسٹ، بلس ہاسپٹل، مہدی پٹنم، حیدرآباد) نے شرکت کی۔ انہوں نے خواتین کی عمر کے اس نازک موڑ پر پیش آنے والی تبدیلیوں اور خطرات کے بارے میں انتہائی آسان اور عام فہم انداز میں خواتین کی رہنمائی کی۔
مینوپاز (Menopause) کیا ہے؟
ڈاکٹر ملیحہ فاطمہ نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ جب کسی خاتون کو مسلسل 12 مہینوں تک ماہواری (Periods) نہ آئے، تو اسے طبی اصطلاح میں 'مینوپاز' یعنی سنِ یاس کہا جاتا ہے۔ عام طور پر یہ مرحلہ 45 سے 55 سال کی عمر کے درمیان آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کوئی بیماری نہیں بلکہ ایک قدرتی حیاتیاتی عمل ہے، جس کے دوران جسم میں ہارمونز (خصوصاً ایسٹروجن) کی سطح کم ہو جاتی ہے، جس کے باعث خواتین کو گرمی لگنا (Hot Flashes)، موڈ کا تیزی سے بدلنا اور نیند کی کمی جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
پوسٹ مینوپازل بلیڈنگ: ایک انتباہ جس سے نظر چنانا خطرناک ہے
پروگرام کے دوسرے اور سب سے اہم حصے میں ڈاکٹر صاحبہ نے 'پوسٹ مینوپازل بلیڈنگ' یعنی مینوپاز کے بعد دوبارہ خون آنے کے مسئلے پر تفصیلی بات کی۔ انہوں نے واضح اور سخت الفاظ میں کہا کہ "مینوپاز کے بعد کسی بھی قسم کا خون یا اسپاٹنگ (دبے لگنا) آنا ہرگز نارمل نہیں ہے"۔ چاہے یہ خون صرف ایک بار ہی کیوں نہ آیا ہو، اسے ہلکا نہیں لینا چاہیے اور فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے۔
وجوہات اور خطرات
ڈاکٹر ملیحہ فاطمہ نے بتایا کہ اس بلیڈنگ کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں، جن میں:
• رحم کی اندرونی جھلی کا پتلا ہو جانا (Atrophy) یا سوزش۔
• رحم کے اندر رسولی (Polyps) کا بننا۔
• سب سے تشویشناک وجہ اینڈومیٹریل کینسر (رحم کا کینسر) بھی ہو سکتی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، مینوپاز کے بعد خون آنے والی تقریباً 10 فیصد خواتین میں یہ کینسر کی ابتدائی علامت ہو سکتی ہے۔
خواتین کے لیے اہم مشورہ اور پیغام
پروگرام کے آخر میں انہوں نے خواتین کو مشورہ دیا کہ 40 سال کی عمر کے بعد تمام خواتین کو سالانہ بنیادوں پر اپنے باقاعدہ ہیلتھ چیک اپ کروانے چاہئیں، جن میں پیلوک الٹراساؤنڈ، پیپ سمیئر (Pap Smear) اور میموگرافی شامل ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ مینوپاز کے بعد بلیڈنگ ہونے پر خود سے دوائیاں لینے یا شرم کی وجہ سے بات چھپانے کے بجائے فوری طور پر کسی ماہر گائناکالوجسٹ سے معائنہ کروائیں، کیونکہ بروقت تشخیص ہی صحت مند زندگی کی ضمانت ہے۔






