گجرات کے صنعتی شہر سورت میں دیوالی کی تعطیلات شروع ہوتے ہی ریلوے اسٹیشنوں پر مسافروں کا غیر معمولی ہجوم جمع ہوگیا ہے۔ اودھنا اور سورت کے مرکزی ریلوے اسٹیشنوں پر صورتحال یہ ہے کہ سینکڑوں مسافر اپنی باری کے انتظار میں 12 سے 12 گھنٹے تک قطاروں میں کھڑے رہنے پر مجبور ہیں۔ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب سے اسٹیشنوں پر رش میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ان میں بڑی تعداد بہار، اتر پردیش، راجستھان اور جھارکھنڈ سمیت مختلف ریاستوں سے تعلق رکھنے والے مزدوروں اور دیگر مسافروں کی ہے، جو دیوالی اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ منانے کے لیے آبائی علاقوں کا رخ کر رہے ہیں۔ طویل انتظار کے باوجود کئی مسافر اس پریشانی میں ہیں کہ وہ وقت پر اور محفوظ طریقے سے اپنے گھروں تک پہنچ پائیں گے یا نہیں۔
190 سے زیادہ خصوصی ٹرینوں کا اعلان
مغربی ریلوے کے تعلقاتِ عامہ کے افسر انوبھو سکسینہ نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ دیوالی کی طویل تعطیلات کے باعث ٹرینوں میں مسافروں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ اس دباؤ کو کم کرنے کے لیے مصروف روٹس پر خصوصی ٹرینیں چلائی جا رہی ہیں۔ ان کے مطابق مغربی ریلوے زون میں 190 سے زیادہ خصوصی اور اضافی ٹرینوں کا اعلان کیا گیا ہے۔ صرف سورت اور اودھنا اسٹیشنوں سے 70 سے زائد ٹرینیں چلائی جا رہی ہیں، جن کے 300 سے زیادہ پھیرے طے کیے گئے ہیں۔ ریلوے کا کہنا ہے کہ اس انتظام کا مقصد مسافروں کو محفوظ طریقے سے ان کی منزل تک پہنچانا اور اسٹیشنوں پر بھیڑ کو کم کرنا ہے۔
آخری وقت میں اضافی ٹرینیں اور کوچز
انوبھو سکسینہ کے مطابق 10 اکتوبر سے اب تک 10 نئی ٹرینوں کا اعلان کیا گیا ہے، جن میں سے 5 ٹرینیں چلائی جا چکی ہیں۔ مسافروں کی تعداد کو دیکھتے ہوئے مزید خدمات بھی شامل کی جا رہی ہیں۔ جھاجھا، جالور اور دیگر مصروف روٹس پر اچانک بڑھنے والے رش کو سنبھالنے کے لیے آخری وقت میں اضافی کوچز اور خصوصی ٹرینیں بھی لگائی گئی ہیں۔ ریلوے افسر کے مطابق صرف رات 11 بجے سے صبح تک تقریباً 14 ہزار سے 15 ہزار افراد ان اسٹیشنوں سے سفر کر چکے ہیں۔ یکم اکتوبر سے اب تک اسی روٹ پر 4 لاکھ سے زیادہ مسافروں کے سفر کا ریکارڈ درج کیا گیا ہے۔
سکیورٹی اور سہولیات کے لیے اضافی انتظامات
ریلوے انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ مسافروں کی حفاظت اور سہولت کے لیے اضافی انتظامات کیے گئے ہیں۔ ریلوے پروٹیکشن فورس (RPF) کے اہلکار تعینات ہیں، جبکہ اضافی ٹکٹ کاؤنٹر اور ہیلپ ڈیسک بھی قائم کیے گئے ہیں۔ انتظامیہ کے مطابق مردوں، خواتین اور معذور افراد کے لیے الگ بیت الخلاء فراہم کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ 150 سے زیادہ لاؤڈ اسپیکروں کے ذریعے مسلسل اعلانات کیے جا رہے ہیں اور اے ٹی ایم سمیت دیگر بنیادی سہولیات بھی دستیاب ہیں۔ انوبھو سکسینہ نے یقین دلایا کہ مسافروں کی تعداد میں مزید اضافہ ہونے کی صورت میں خصوصی ٹرینوں کی تعداد بھی بڑھائی جائے گی۔
تہوار کی خوشی، مگر سفر کی پریشانی
اس وقت سورت کے ریلوے اسٹیشنوں پر ایک طرف دیوالی پر گھر پہنچنے کی خوشی ہے تو دوسری طرف طویل قطاروں، ٹکٹوں اور ٹرینوں میں جگہ حاصل کرنے کی پریشانی بھی۔ مسافروں کی بڑی تعداد گھنٹوں انتظار کے بعد بھی اپنے سفر کے بارے میں غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہی ہے۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ خصوصی ٹرینوں اور اضافی انتظامات کے باوجود مسافروں کو اس قدر طویل انتظار سے کب راحت ملے گی؟






