ڈیجیٹل ادائیگی کے شعبے میں یو پی آئی صارفین اور تاجروں کے لیے ایک اہم تبدیلی ہونے جا رہی ہے۔ 15 اکتوبر سے 2 ہزار روپے سے زیادہ کی اہل مرچنٹ ادائیگیوں پر نیا مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ (MDR) فریم ورک لاگو ہوگا۔ نئے نظام کے تحت دکاندار یا مرچنٹ کو UPI کے ذریعے ہونے والی مخصوص ادائیگیوں پر 0.4 فیصد MDR ادا کرنا ہوگا۔ اس تبدیلی کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ اس فیس کا براہِ راست بوجھ صارف پر نہیں ڈالا جائے گا۔ یعنی اگر کوئی شخص UPI کے ذریعے کسی دکاندار کو ادائیگی کرتا ہے تو اسے بل کی اصل رقم ہی ادا کرنی ہوگی اور اس کے اوپر کوئی اضافی UPI چارج وصول نہیں کیا جائے گا۔
مثال کے طور پر اگر کسی صارف نے کسی دکاندار کو 3 ہزار روپے کی ادائیگی کی تو مرچنٹ کو 0.4 فیصد کے حساب سے 12 روپے MDR ادا کرنا ہوگا۔ تاہم صارف کے اکاؤنٹ سے 3 ہزار روپے ہی کٹیں گے اور اسے اضافی 12 روپے فیس کے طور پر ادا نہیں کرنے ہوں گے۔ نئے فریم ورک میں بڑی رقم کے لین دین کے لیے MDR کی زیادہ سے زیادہ حد بھی مقرر کی گئی ہے۔ 75 ہزار روپے یا اس سے زیادہ مالیت کی اہل مرچنٹ ادائیگیوں پر MDR زیادہ سے زیادہ 300 روپے ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بڑی رقم کی ادائیگیوں میں 0.4 فیصد کے حساب سے MDR کی رقم 300 روپے سے زیادہ نہیں جائے گی۔ اس طرح مرچنٹس کے لیے بڑی ادائیگیوں پر فیس کی ایک حد مقرر کر دی گئی ہے۔
نئے MDR فریم ورک کا اطلاق ہر قسم کی UPI منتقلی پر نہیں ہوگا۔ افراد کے درمیان ہونے والی Person-to-Person یعنی P2P ٹرانسفر بدستور مفت رہیں گی۔ مثال کے طور پر اگر کوئی شخص اپنے دوست، رشتہ دار یا کسی دوسرے فرد کو UPI کے ذریعے رقم بھیجتا ہے تو اس ٹرانسفر پر MDR لاگو نہیں ہوگا۔ اسی طرح 2 ہزار روپے تک کی اہل مرچنٹ ادائیگیاں بھی مفت رہیں گی۔ یعنی چھوٹی خریداریوں یا 2 ہزار روپے تک کی مخصوص دکاندار ادائیگیوں پر مرچنٹ کو MDR ادا نہیں کرنا ہوگا۔
نئے نظام کے بعد UPI ادائیگیوں میں بنیادی فرق یہ ہوگا کہ 2 ہزار روپے سے زیادہ کی مخصوص مرچنٹ ادائیگیوں پر MDR کی ذمہ داری مرچنٹ پر ہوگی، جبکہ صارف کو اضافی چارج ادا نہیں کرنا پڑے گا۔ اس کے ساتھ ہی بڑی ادائیگیوں کے لیے 300 روپے کی زیادہ سے زیادہ MDR حد بھی مقرر کی گئی ہے۔ یوں صارفین کے لیے ادائیگی کا عمل بدستور آسان رہے گا، جبکہ مرچنٹس کے لیے لین دین کی لاگت کے ڈھانچے میں تبدیلی آئے گی۔







