سعودی عرب کے مقدس شہر مکہ مکرمہ میں نیشنل ارلی وارننگ پلیٹ فارم کی جانب سے اچانک ہنگامی الرٹ جاری کیے جانے کے بعد سوشل میڈیا اور بین الاقوامی سطح پر مختلف قیاس آرائیاں شروع ہوگئیں۔ مغربی ایشیا میں جاری عسکری کشیدگی کے پس منظر میں بعض حلقوں کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا کہ مکہ کو یمن کے حوثی گروپ، جسے انصار اللہ بھی کہا جاتا ہے، کی جانب سے ڈرون یا میزائل حملے کا خطرہ لاحق تھا۔ تاہم، دستیاب زمینی اطلاعات کے مطابق مکہ پر حوثیوں کے ڈرون یا میزائل حملے کی بات کی تصدیق نہیں ہوئی اور اس حوالے سے گردش کرنے والی افواہوں کو بے بنیاد قرار دیا گیا ہے۔
مکہ میں ہنگامی الرٹ کے اچانک جاری ہونے اور کچھ ہی دیر بعد اسے واپس لیے جانے کے عمل نے بھی کئی سوالات پیدا کیے ہیں۔ بعض ماہرین نے اس صورتحال کو ’انفارمیشن وارفیئر‘ یعنی معلوماتی جنگ کے تناظر میں دیکھنے کی کوشش کی ہے۔ ان کے مطابق موجودہ علاقائی کشیدگی میں کسی بھی ہنگامی الرٹ یا غیر مصدقہ خبر کا تیزی سے پھیلنا عوام میں خوف اور بے یقینی پیدا کرسکتا ہے۔ تاہم، الرٹ کے جاری ہونے اور واپس لیے جانے کی حتمی وجہ کے بارے میں مزید سرکاری وضاحت کا انتظار ہے۔
اس سے قبل سعودی عرب کے جدہ اور طائف شہروں میں بھی اسی نوعیت کے ہنگامی الرٹ جاری کیے جانے کی اطلاعات سامنے آچکی ہیں، جنہیں بعد میں واپس لے لیا گیا تھا۔ موجودہ صورتحال میں سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اطلاعات اور سرکاری طور پر تصدیق شدہ معلومات کے درمیان فرق برقرار رکھنا اہم ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خطے میں عسکری کشیدگی کے باعث مختلف نوعیت کی خبریں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔
مکہ سے متعلق میزائل خطرے کی بحث میں 2017 کا ایک واقعہ بھی دوبارہ زیرِ بحث آیا ہے۔ اس وقت سعودی عرب نے دعویٰ کیا تھا کہ مکہ سے تقریباً 69 کلومیٹر دور الوصیلیہ کے مقام پر ایک میزائل کو روک کر تباہ کردیا گیا تھا۔دوسری جانب انصار اللہ نے سعودی عرب کے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس نے مکہ کو نشانہ نہیں بنایا تھا۔ موجودہ معاملے میں بھی مکہ میں جاری کیے گئے ہنگامی الرٹ کے پس منظر اور اس کی اصل وجہ سے متعلق واضح اور مکمل سرکاری معلومات کا انتظار ہے۔ فی الحال حوثی حملے کی افواہوں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی ہے۔






