Friday, November 06, 2026 | 25 جمادى الأولى 1448
  • News
  • »
  • سیاست
  • »
  • فلاحی منصوبوں کی رقم کے لیے ووٹر کارڈ اور بایومیٹرک کی شرط؟ راہل گاندھی نے حکومت پر اٹھائے سوال

فلاحی منصوبوں کی رقم کے لیے ووٹر کارڈ اور بایومیٹرک کی شرط؟ راہل گاندھی نے حکومت پر اٹھائے سوال

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Md Shahbaz | Last Updated: 06 Nov 2026

فلاحی منصوبوں کی رقم کے لیے ووٹر کارڈ اور بایومیٹرک کی شرط؟ راہل گاندھی نے حکومت پر اٹھائے سوال
لوک سبھا میں اپوزیشن کے قائد راہل گاندھی نے مرکزی وزیر للن سنگھ کے حالیہ بیان پر تشویش ظاہر کی ہے۔ للن سنگھ نے کہا تھا کہ فلاحی منصوبوں کے تحت رقم کی ادائیگی کے لیے مستقبل میں آدھار کارڈ کے بجائے ووٹر شناختی کارڈ اور بایومیٹرک نظام استعمال کیا جا سکتا ہے۔ راہل گاندھی نے اس تجویز پر سوال اٹھاتے ہوئے اسے ایک بڑی سازش قرار دیا اور کہا کہ اس کے ممکنہ اثرات کو سنجیدگی سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی پوسٹ میں خدشہ ظاہر کیا کہ اگر فلاحی منصوبوں کی ادائیگی کو ووٹر لسٹ سے جوڑ دیا گیا تو اس سے غریب اور کمزور طبقوں کے حقوق متاثر ہو سکتے ہیں۔
 
ووٹر لسٹ سے نام حذف ہونے پر تشویش
 
راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ اسپیشل انٹینسو ریویژن (SIR) کے نام پر ووٹر لسٹ سے بڑے پیمانے پر نام حذف کیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق، اگر یہ عمل جاری رہا تو مزید لوگوں کے نام ووٹر لسٹ سے خارج ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس سے بی جے پی مخالف ووٹروں کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے الیکشن کمیشن کے کردار پر بھی سوال اٹھائے اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر حکومت کے اثر و رسوخ میں کام کرنے کا الزام لگایا۔ 
 
پنشن، راشن اور دیگر سہولتوں پر بھی اثر پڑنے کا خدشہ
 
اپنی پوسٹ میں راہل گاندھی نے کہا کہ اگر فلاحی منصوبوں کی رقم حاصل کرنے کے لیے ووٹر شناختی کارڈ کو لازمی بنایا گیا تو اس کے اثرات صرف پنچایتی راج کے منصوبوں تک محدود نہیں رہیں گے۔ ان کے مطابق، مستقبل میں راشن، پنشن، منریگا، رہائشی اسکیموں، اسکالرشپ اور ریزرویشن جیسی سہولتوں کے حصول پر بھی سوالات پیدا ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر کسی شہری کا نام ووٹر لسٹ سے حذف ہو گیا تو وہ سرکاری سہولتوں سے محروم ہونے کے خطرے سے دوچار ہو سکتا ہے۔
 
’ووٹ دینا حق ہے، شرط نہیں‘
 
راہل گاندھی نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ ووٹ دینا ہر شہری کا حق ہے، اسے سرکاری سہولتیں حاصل کرنے کی شرط نہیں بنایا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی غریب کی پنشن کو اس کے ووٹر شناختی کارڈ سے مشروط نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے اس مجوزہ تبدیلی کو انتخابی سیاست سے جوڑتے ہوئے الزام لگایا کہ اس کا مقصد اقتدار برقرار رکھنے کے لیے انتخابی عمل کو متاثر کرنا ہے۔ راہل گاندھی نے اپنی پوسٹ کے اختتام پر کہا کہ یہ صرف ووٹ کا معاملہ نہیں بلکہ شہریوں کے حقوق کا مسئلہ ہے اور ان کی پارٹی ایسا ہونے نہیں دے گی۔
 
حکومت کی وضاحت کا انتظار
 
راہل گاندھی کے بیان کے بعد فلاحی منصوبوں کی ادائیگی اور ووٹر شناختی کارڈ کے ممکنہ استعمال پر سیاسی بحث تیز ہو گئی ہے۔ تاہم، اس مجوزہ تبدیلی کی تفصیلات اور اس کے عملی طریقۂ کار کے بارے میں حکومت کی باضابطہ وضاحت سامنے آنا باقی ہے۔ یہ بھی واضح ہونا ضروری ہے کہ آیا ووٹر شناختی کارڈ کو صرف شناخت کی تصدیق کے لیے استعمال کرنے کی بات ہے یا فلاحی سہولتوں کے حصول کو ووٹر لسٹ میں نام موجود ہونے سے مشروط کیا جائے گا۔