تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ وجے نے پیر کو مدورائی کے سرکاری راجاجی ہسپتال میں نوزائیدہ بچوں کے لیے ایک گرام سونے کی انگوٹھی کی اسکیم کا آغاز کر دیا۔ (Thaaimaman Thanga Mothiram Thittam) نامی اس اسکیم کے تحت سرکاری ہسپتالوں میں پیدا ہونے والے بچوں کو 22 قیراط کی ایک گرام سونے کی انگوٹھی دی جائے گی۔ یہ اسکیم وجے کے اہم انتخابی وعدوں میں شامل تھی۔
اسکیم کے آغاز کے موقع پر وجے نے کچھ نوزائیدہ بچوں کو گود میں لیا اور انہیں سونے کی انگوٹھیاں پہنائیں۔ اس موقع پر پہلے مرحلے میں 25 بچوں کو انگوٹھیاں دی گئیں۔
تمل ناڈو حکومت نے اس اسکیم کے لیے سالانہ 755.83 کروڑ روپے مختص کیے ہیں۔ پورے سال کے دوران تقریباً 4.41 لاکھ ایک گرام سونے کی انگوٹھیاں فراہم کرنے کا منصوبہ ہے، جبکہ پہلے مرحلے کے لیے 1.28 لاکھ انگوٹھیاں پہلے ہی تیار کر لی گئی ہیں۔
حکومت کے مطابق اس اسکیم کا مقصد ماں اور بچے کی صحت کو فروغ دینا اور سرکاری ہسپتالوں میں زچگی کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے زیادہ خاندان سرکاری صحت کی سہولیات کا رخ کریں گے اور محفوظ طریقے سے ہسپتالوں میں بچوں کی پیدائش کی حوصلہ افزائی ہوگی۔
اس اسکیم کا نام (Thaaimaman Thanga Mothiram Thittam) رکھا گیا ہے۔ تمل ثقافت میں ’تھائی مامان‘ سے مراد ماں کا بھائی، یعنی بچے کا ماموں ہے۔ حکومت کے مطابق ماموں بچے کی پیدائش کے موقع پر خاندان کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے، اسی روایتی رشتے کو مدنظر رکھتے ہوئے اس اسکیم کا نام رکھا گیا ہے۔
تمل ناڈو حکومت کے مطابق ہر سونے کی انگوٹھی پر ایک منفرد سیریل نمبر ہوگا اور اسے ایسی پیکنگ میں دیا جائے گا جس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہ کی جا سکے۔ اس کا مقصد انگوٹھیوں کی تقسیم میں شفافیت اور ریکارڈ برقرار رکھنا ہے۔
اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے کے لیے بچے کی پیدائش سرکاری ہسپتال میں ہونا ضروری ہے۔ بچے کی ماں تمل ناڈو کی مستقل رہائشی ہونی چاہیے۔ اس کے علاوہ ماں کا ’پریگننسی اینڈ انفینٹ کوہورٹ مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن‘ یعنی PICME نظام میں رجسٹرڈ ہونا اور ’ری پروڈکٹیو اینڈ چائلڈ ہیلتھ‘ یعنی RCH شناختی نمبر حاصل کرنا بھی ضروری ہے۔
اس اسکیم کا فائدہ 22 جون 2026 سے پیدا ہونے والے بچوں کو بھی دیا جائے گا۔ یعنی اسکیم کے باضابطہ آغاز سے پہلے 22 جون سے 27 ستمبر کے درمیان سرکاری ہسپتالوں میں پیدا ہونے والے اہل بچوں کو بھی انگوٹھی دی جائے گی۔ ان بچوں کے لیے ریاست بھر میں 107 مراکز قائم کیے گئے ہیں، جہاں 28 ستمبر سے روزانہ ہر مرکز پر 100 بچوں کو انگوٹھیاں دینے کا انتظام کیا گیا ہے۔
اسکیم کے آغاز کی تاریخ سے سرکاری ہسپتالوں میں پیدا ہونے والے اہل بچوں کو ہسپتال سے گھر بھیجے جانے سے پہلے ہی سونے کی انگوٹھی دے دی جائے گی۔
حکومت کے مطابق تمل ناڈو میں ہر سال تقریباً 7.8 لاکھ بچوں کی پیدائش ہوتی ہے۔ ان میں تقریباً 4.2 لاکھ، یعنی 53 فیصد بچے سرکاری ہسپتالوں میں پیدا ہوتے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اسی وجہ سے اس اسکیم کے ذریعے سرکاری صحت مراکز میں زچگی کی حوصلہ افزائی پر زور دیا جا رہا ہے۔
اسکیم پر اعتراضات بھی سامنے آئے ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں نے سونے کی انگوٹھیوں کی خریداری کے لیے ’تمل ناڈو میڈیکل سروسز کارپوریشن‘ کے استعمال پر سوال اٹھایا ہے، کیونکہ یہ ادارہ عام طور پر ادویات اور طبی سامان کی خریداری سے متعلق کام کرتا ہے۔
دوسری جانب سروس ڈاکٹرز اینڈ پوسٹ گریجویٹ ایسوسی ایشن نے ہسپتالوں کے لاکرز میں بڑی تعداد میں سونے کی انگوٹھیاں رکھنے سے متعلق مشکلات کی نشاندہی کی ہے۔ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ انگوٹھیوں کی حفاظت اور انتظام کی ذمہ داری سے طبی عملے پر اضافی بوجھ پڑ سکتا ہے، جس سے طبی خدمات متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ ایسوسی ایشن نے تجویز دی ہے کہ انگوٹھیوں کی تقسیم کے لیے بینکوں کا استعمال کیا جائے۔
حکومت نے اسکیم کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا مقصد سرکاری ہسپتالوں میں زچگی کی حوصلہ افزائی اور عوام کا سرکاری صحت کی سہولیات پر اعتماد بڑھانا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اسکیم کے نفاذ کے لیے قانونی رائے بھی لی گئی ہے اور اسے مناسب طریقے سے نافذ کیا جائے گا۔






