Monday, September 28, 2026 | 14 ربيع الآخر 1448
  • News
  • »
  • قومی
  • »
  • کاکروچ جنتا پارٹی کے سوربھ داس کی بی جے پی اور الیکشن کمیشن پر تنقید

کاکروچ جنتا پارٹی کے سوربھ داس کی بی جے پی اور الیکشن کمیشن پر تنقید

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Md Shahbaz | Last Updated: 28 Sept 2026

 کاکروچ جنتا پارٹی کے سوربھ داس کی بی جے پی اور الیکشن کمیشن پر تنقید
سی جے پی لیڈر سوربھ داس نے ایک بار پھر بی جے پی اور الیکشن کمیشن کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی حکومت کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اقتدار ہمیشہ کے لیے نہیں ہوتا اور حکومت کی اصل ذمہ داری عوام کی خدمت کرنا ہے۔ سوربھ داس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں کہا کہ جب چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے مبینہ غیر قانونی اقدامات پر سوال اٹھائے جاتے ہیں تو بی جے پی کا پورا نظام تاریخ پر لیکچر دینا شروع کر دیتا ہے۔ ان کے مطابق حکومت کو یہ سمجھنا چاہیے کہ اقتدار مستقل نہیں ہوتا اور جو حکومت اس حقیقت کو نظر انداز کرتی ہے، وہ اپنے زوال کی جانب بڑھنے لگتی ہے۔
 
سوربھ داس نے گیانیش کمار کے خلاف سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس میں دائر درخواستوں کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ متعدد درخواستیں عدالتوں میں زیر غور ہیں، تاہم ماضی کے ایک معاملے کو بھی نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب اس سے قبل لوگوں نے عدالت سے رجوع کیا تھا تو سپریم کورٹ نے یہ ہدایت دی تھی کہ حالات جیسے بھی ہوں، انتخابات سے چند ماہ قبل مغربی بنگال میں ایس آئی آر یعنی اسپیشل سمری ریویژن کا عمل مکمل کیا جائے۔ سوربھ داس نے دعویٰ کیا کہ جب ووٹر لسٹ سے بڑی تعداد میں نام خارج کیے جانے کا معاملہ مزید نظر انداز نہیں کیا جا سکا تو جسٹس جویمالیا باگچی کی بنچ کی جانب سے ایک تبصرہ سامنے آیا تھا۔ ان کے مطابق عدالت نے کہا تھا کہ جو لوگ اس بار ووٹ نہیں دے سکے، ممکن ہے وہ اگلی بار ووٹ دے سکیں۔
 
سوربھ داس نے کہا کہ عدالتیں ملک کے آئینی ادارے ہیں، اس لیے گیانیش کمار کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت عدالتوں کو کرنے دی جانی چاہیے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ گیانیش کمار کے احتساب کا معاملہ صرف عدالتوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ ان کے بقول، اس معاملے میں حتمی فیصلہ عوام کریں گے۔ سوربھ داس کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب انتخابی عمل اور الیکشن کمیشن کے کردار سے متعلق مختلف سیاسی و قانونی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ تاہم ان کے بیان میں کیے گئے قانونی اور سیاسی دعوے ان کا مؤقف ہیں، جن پر متعلقہ اداروں یا دیگر فریقوں کا مؤقف الگ ہو سکتا ہے۔