Monday, September 28, 2026 | 14 ربيع الآخر 1448
  • News
  • »
  • سیاست
  • »
  • پرویش ورما کے تھپڑ پر راہل گاندھی کی بی جے پی پر تنقید

پرویش ورما کے تھپڑ پر راہل گاندھی کی بی جے پی پر تنقید

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: 28 Sept 2026

پرویش ورما کے تھپڑ پر راہل گاندھی کی بی جے پی پر تنقید
کانگریس رہنما راہل گاندھی نے دہلی کے وزیر تعمیراتِ عامہ (PWD) پرویش ورما کی جانب سے سڑک کے معائنے کے دوران ایک شخص کو مبینہ طور پر تھپڑ مارنے کے واقعے پر بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ یہ واقعہ ایسے اقتدار کی علامت ہے جسے اب ووٹرز کا خوف نہیں رہا۔
 
راہل گاندھی نے ’ایکس‘ کے ذریعے ایک پوسٹ میں کہا کہ ویڈیو میں دہلی حکومت کے بی جے پی وزیر کو ایک نوجوان کو تھپڑ مارتے دیکھا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق نوجوان کا جرم صرف یہ تھا کہ وہ سڑک کے معائنے کی ویڈیو بنا رہا تھا۔ راہل گاندھی نے کہا کہ وزیر کے سامنے سڑک کی کھدائی ہو رہی تھی اور نوجوان کے ہاتھ میں کیمرہ تھا۔
 
انہوں نے اس واقعے کو دوسرے سیاسی معاملات سے جوڑتے ہوئے کہا کہ سڑک پر سوال پوچھنے پر تھپڑ، پیپر لیک پر سوال اٹھانے پر لاٹھی چارج اور پارلیمنٹ میں سوال کرنے پر مائیک بند کیے جانے کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔
 
راہل گاندھی نے دہلی میں طلباء کے ایک احتجاج کا بھی حوالہ دیا، جہاں ان کے مطابق طلباء نے NEET پیپر لیک کے خلاف پارلیمنٹ کی طرف مارچ کیا تھا اور پولیس نے ان پر لاٹھی چارج کیا۔ انہوں نے پارلیمنٹ میں اپوزیشن کے مائیک بند کیے جانے کا الزام بھی دہرایا، جو وہ پہلے بھی کئی بار لگا چکے ہیں۔
 
راہل گاندھی نے مزید الزام لگایا کہ ایسے رویے کی وجہ یہ ہے کہ حکمرانوں کو اب یہ خوف نہیں رہا کہ انتخابات انہیں اقتدار سے ہٹا سکتے ہیں۔ انہوں نے اپنے ’ووٹ چوری‘ کے سیاسی دعوے کو بھی اسی معاملے سے جوڑا اور کہا کہ انتخابی کامیابی کو یقینی سمجھنے والی حکومت عوام کی رضامندی کے بجائے ان کی خاموشی چاہتی ہے۔
 
راہل گاندھی نے الیکشن کمیشن سے متعلق ایک تنازع کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے ایک رپورٹ کا حوالہ دیا، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی جانب سے انتخابی فہرستوں کی خصوصی اور تفصیلی نظرثانی (SIR) سے متعلق بعض فیصلوں پر دو الیکشن کمشنروں نے 10 ماہ کے دوران 14 مرتبہ اعتراضات اٹھائے تھے۔
 
راہل گاندھی کے بیان پر پرویش ورما نے ردعمل دیتے ہوئے انہیں اس معاملے سے دور رہنے کا مشورہ دیا۔ ورما نے کہا، "راہل جی، آپ اس معاملے سے دور ہی رہیں، آپ کو کچھ معلوم نہیں ہے۔"
 
یہ تنازع اتوار کو دہلی کے تلک نگر علاقے میں سڑک کے معائنے کے دوران شروع ہوا۔ پرویش ورما، جو دہلی کے PWD وزیر ہیں، نئی تعمیر شدہ سڑک کا معائنہ کرنے وہاں پہنچے تھے۔ اسی دوران عام آدمی پارٹی (AAP) کے رکن اسمبلی جرنیل سنگھ بھی وہاں پہنچ گئے اور سڑک کے معیار پر سوال اٹھایا۔ جرنیل سنگھ نے سڑک کی اوپری تہہ کا ایک حصہ ہاتھ سے اکھاڑ کر وزیر کو دکھایا۔
 
جرنیل سنگھ نے کہا کہ انہوں نے وزیر کو یہ دکھانے کے لیے سڑک کی تہہ اکھاڑی کہ تعمیر کا معیار خراب ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سڑک اس طرح بنائی جائے کہ زیادہ عرصے تک قائم رہ سکے۔
 
اس دوران جرنیل سنگھ کے ساتھ موجود صاحب سنگھ سڑک کے معائنے اور دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی گفتگو کی ویڈیو بنا رہے تھے۔ ویڈیو میں پرویش ورما کو پہلے صاحب سنگھ کا موبائل فون نیچے کرتے اور اس کے بعد انہیں تھپڑ مارتے دیکھا جا سکتا ہے۔
 
صاحب سنگھ نے الزام لگایا کہ وہ جرنیل سنگھ کے سوشل میڈیا پیج کے لیے واقعے کی لائیو اسٹریمنگ کر رہے تھے۔ ان کے مطابق پرویش ورما نے ان کا فون ہٹایا، انہیں تھپڑ مارا اور وزیر کے سکیورٹی اہلکاروں نے بھی انہیں دھکا دیا۔ صاحب سنگھ نے کہا کہ انہوں نے وزیر یا ان کے اہل خانہ کے بارے میں کوئی نازیبا بات نہیں کی تھی۔
 
دوسری جانب پرویش ورما نے واقعے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ جرنیل سنگھ اپنے کارکنوں کے ساتھ موقع پر آئے اور ان کے ایک کارکن نے ان کے اہل خانہ کو گالیاں دیں۔ ورما نے کہا کہ غصے کی حالت میں انہوں نے اسی طرح ردعمل دیا۔ انہوں نے سڑک کی تعمیر کے حوالے سے جرنیل سنگھ پر بھی الزامات عائد کیے،  یہ الزامات ان کا مؤقف ہیں۔
 
اس معاملے میں دونوں جانب سے پولیس کو شکایات بھی دی گئی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ایک شکایت سڑک کے ٹھیکیدار کی جانب سے جرنیل سنگھ کے خلاف اور دوسری صاحب سنگھ کی جانب سے پرویش ورما کے خلاف دی گئی۔ پولیس نے دونوں شکایات کی تحقیقات شروع کی ہیں۔
 
واقعے کے بعد عام آدمی پارٹی نے احتجاج کرتے ہوئے پرویش ورما کے خلاف ایف آئی آر اور گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے بھی واقعے کی مذمت کی اور پرویش ورما کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا۔