پیر کے روز جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کی کاروائی بار بار ہنگامے اور تعطل کا شکار رہی۔ حکمراں جماعت نیشنل کانفرنس کے ارکان اور اپوزیشن بی جے پی کے قانون سازوں کے درمیان نعرے بازی ہوتی رہی، جبکہ بی جے پی کے ارکان ایوان کے وسط میں مسلسل احتجاج کرتے رہے۔ اس ہنگامے کے باعث سوال و جواب کا وقفہ بھی متاثر ہوا۔ دونوں جانب کے ارکان ایک دوسرے کے خلاف نعرے لگاتے رہے، جس سے ایوان کی کاروائی میں خلل پڑا۔
نعرے بازی کے دوران جموں و کشمیر کے نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری نے اسپیکر عبدالرحیم راتھر سے مطالبہ کیا کہ وہ اپوزیشن لیڈر سنیل شرما کی جانب سے وزیر اعلیٰ عمرعبداللہ کے خلاف استعمال کیے گئے الفاظ کا نوٹس لیں۔ سریندر چودھری نے مطالبہ کیا کہ سنیل شرما وزیر اعلیٰ عمرعبداللہ کے خلاف اپنے ریمارکس پر معافی مانگیں۔
احتجاج جاری رہنے کے دوران بی جے پی کے قانون ساز وکرم رندھاوا اور ایک اور بی جے پی رکن کو کانگریس کے ایم ایل اے عرفان حفیظ لون اور افتخار کے ساتھ ہنگامے کے دوران ایوان سے باہر نکال دیا گیا۔
اس دوران بی جے پی کے کئی ارکان ایوان کے وسط میں موجود رہے اور نعرے لگاتے رہے۔ نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری نے بی جے پی ارکان کے اس رویے کو "غنڈہ گردی" قرار دیا۔
اسپیکر عبدالرحیم راتھر نے احتجاج کرنے والے ارکان سے نظم و ضبط برقرار رکھنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا، "آپ یہاں عوام کی نمائندگی کرنے آئے ہیں۔ ایوان میں نظم و ضبط برقرار رکھیں۔" اسپیکر کی اپیل کے بعد بی جے پی کے قانون سازوں نے ان کے خلاف بھی نعرے بازی شروع کر دی۔ گوریز سے نیشنل کانفرنس کے ایم ایل اے نذیر احمد گوریزی نے اسپیکر کا دفاع کیا اور بی جے پی ارکان کے رویے پر تنقید کی۔
گوریزی نے اسپیکر سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا، "وہ (بی جے پی) غنڈہ گردی پر اتر آتے ہیں۔ آپ نے انہیں ایوان میں برداشت کرنے کا کافی حوصلہ ہے۔" یہ ہنگامہ وزیر اعلیٰ عمرعبداللہ کی جانب سے جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت بحال کرنے کے لیے پیش کی گئی قرارداد پر جاری وسیع تر سیاسی تنازع کے دوران ہوا۔
قرارداد پر بحث کے دوران زادی بل سے نیشنل کانفرنس کے ایم ایل اے تنویر صادق نے قرارداد کے الفاظ اور اس میں اسمبلی کی سابقہ قراردادوں کے حوالے پر بی جے پی کے اعتراضات کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
تنویر صادق نے کہا کہ بی جے پی ماضی میں مرکز میں ایسی پارٹی کے ساتھ حکومت میں شامل رہی ہے جس نے "خود مختاری" (Self-rule) اور "دوہری کرنسی" کی بات کی تھی، لیکن اس وقت بی جے پی نے کوئی اعتراض نہیں کیا تھا۔ انہوں نے بی جے پی پر الزام لگایا کہ وہ قرارداد کو صحیح طرح پڑھے بغیر ایوان میں ہنگامہ کر رہی ہے۔
جموں و کشمیر اسمبلی کے جاری اجلاس میں ریاستی حیثیت کی بحالی سے متعلق قرارداد ایک اہم اور متنازع مسئلہ بن گئی ہے۔ بی جے پی نے قرارداد کی عبارت کے کچھ حصوں اور اسمبلی کی سابقہ قراردادوں کے حوالے پر اعتراضات کیے ہیں، جبکہ حکمران جماعت کے ارکان جموں و کشمیر کی مکمل ریاستی حیثیت بحال کرنے کے مطالبے کا دفاع کر رہے ہیں۔






