Monday, September 28, 2026 | 14 ربيع الآخر 1448
  • News
  • »
  • سیاست
  • »
  • اجین شاہی مسجد کے حصے کو ہٹانے پر اکھلیش یادو کا ردعمل، مسلمانوں سے صبر کی اپیل

اجین شاہی مسجد کے حصے کو ہٹانے پر اکھلیش یادو کا ردعمل، مسلمانوں سے صبر کی اپیل

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Md Shahbaz | Last Updated: 28 Sept 2026

اجین شاہی مسجد کے حصے کو ہٹانے پر اکھلیش یادو کا ردعمل، مسلمانوں سے صبر کی اپیل
مدھیہ پردیش کے اجین میں سڑک کی توسیع کے منصوبے کے تحت شاہی مسجد کے ایک حصے کو ہٹائے جانے کے معاملے پر سماج وادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو نے ردعمل ظاہر کیا ہے۔ اکھلیش یادو نے مسلمانوں سے صبر اور تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ آئین ان لوگوں کو سزا دے گا جو دوسروں کے حقوق چھینتے ہیں۔ اکھلیش یادو نے بھارتیہ جنتا پارٹی پر بھی تنقید کی اور دعویٰ کیا کہ بی جے پی کے پاس خود بڑی تعداد میں ایسی تعمیرات موجود ہیں جنہیں وہ غیر قانونی قرار دے رہے ہیں۔
 
شاہی مسجد کا معاملہ اجین میں سڑک کی توسیع کے منصوبے سے جڑا ہوا ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے 9 ستمبر کو دو درخواستیں مسترد کردی تھیں۔ ان درخواستوں میں اجین میونسپل کارپوریشن کے اس فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا جس کے تحت سڑک کی مجوزہ توسیع کی زد میں آنے والے شاہی مسجد کے حصے کو ہٹانے کی کارروائی کی جانی تھی۔ شاہی مسجد کو وقف جائیداد کے طور پر رجسٹرڈ بتایا جاتا ہے۔ دوسری جانب مسجد کمیٹی کے نمائندوں کی جانب سے خود اس حصے کو ہٹانے کی کارروائی کیے جانے کی بات سامنے آئی ہے جو سڑک کی توسیع کے منصوبے سے متاثر ہو رہا ہے۔ 
 
اجین کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ روشن سنگھ، سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اور شہر کے قاضی نے بھی لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر توجہ نہ دیں اور امن و امان برقرار رکھنے میں تعاون کریں۔ اکھلیش یادو نے شنکراچاریہ کے ساتھ مبینہ سلوک کے معاملے پر بھی بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ شنکراچاریہ کو دریائے گنگا میں  غسل کرنے سے روکنے جیسے واقعات کے سیاسی نتائج بی جے پی کو بھگتنا پڑیں گے۔ وزیر اعلیٰ پر طنز کرتے ہوئے ایس پی سربراہ نے کہا کہ اگر وہ گائے کے حقیقی عقیدت مند ہیں تو انہیں وزیر اعلیٰ کے دفتر میں گائے کے لیے انتظام کرنا چاہیے اور ان کی دیکھ بھال کرنی چاہیے۔
 
اکھلیش یادو نے بہوجن سماج پارٹی کی سربراہ مایاوتی کی جانب سے EVM سے متعلق اٹھائے گئے سوالات پر بھی بات کی۔ انہوں نے براہ راست EVM کا نام لیے بغیر ٹیکنالوجی کے غلط استعمال اور سائبر فراڈ کے معاملے کی طرف توجہ دلائی۔ انہوں نے لکھنؤ میں مبینہ غیر قانونی کال سینٹرز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ٹیکنالوجی کے ذریعے جرائم کی نوعیت بدل رہی ہے۔ اکھلیش یادو کے مطابق، اب جرائم میں کمپیوٹر اور دیگر تکنیکی ذرائع کا استعمال بھی بڑھ رہا ہے۔ ان کے یہ تمام دعوے اور الزامات سیاسی بیانات کا حصہ ہیں، جن پر متعلقہ فریقوں کا مؤقف الگ ہوسکتا ہے۔