Monday, September 28, 2026 | 14 ربيع الآخر 1448
  • News
  • »
  • کاروبار
  • »
  • ایران کا ہرمز کھولنے سے انکار، تیل کی قیمتوں میں اضافہ

ایران کا ہرمز کھولنے سے انکار، تیل کی قیمتوں میں اضافہ

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: 28 Sept 2026

ایران کا ہرمز کھولنے سے انکار، تیل کی قیمتوں میں اضافہ
آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے معاملے پر ایران اور امریکہ کے درمیان اختلاف برقرار ہے، جبکہ ایران کی جانب سے سات روزہ منصوبے کی پیشکش کے باوجود امریکہ نے اس کی شرائط مسترد کر دی ہیں۔ اس پیش رفت کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار ہیں۔
 
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مطابق امریکہ کو پہلے 4 سے 5 دن میں ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی ختم کرنے، ایرانی تیل کی فروخت پر عائد پابندیاں اٹھانے اور منجمد ایرانی اثاثوں تک رسائی دینے کے لیے ضروری اقدامات کرنا ہوں گے۔ اس کے بعد چھٹے روز آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جا سکتا ہے اور ساتویں روز مذاکرات دوبارہ شروع کیے جا سکتے ہیں۔ عراقچی نے کہا کہ اگر امریکہ سنجیدہ ہے تو اس منصوبے کے تحت معاہدہ کیا جا سکتا ہے۔
 
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ تیل کی بلند قیمتیں ظاہر کرتی ہیں کہ عالمی توانائی کی منڈی میں شدید سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ موجود ہے۔ ان کے مطابق امریکہ کی جانب سے آبنائے ہرمز سے متعلق پیش کیے جانے والے مؤقف اور عالمی منڈی کے ردعمل میں واضح فرق نظر آ رہا ہے۔
 
رپورٹ کے مطابق 28 ستمبر کو ابتدائی ایشیائی کاروبار میں برینٹ خام تیل کی قیمت 105.64 ڈالر فی بیرل جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 93.11 ڈالر فی بیرل رہی۔ موجودہ صورتحال میں آبنائے ہرمز سے تیل اور گیس کی ترسیل میں طویل رکاوٹ عالمی توانائی کی منڈی کو متاثر کر سکتی ہے۔
 
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے سات روزہ منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ہتھیار ڈالنے اور تنازع ختم ہونے کے بعد تیل کی قیمتیں تیزی سے کم ہو جائیں گی۔ ٹرمپ کے مطابق امریکہ نے ایک رات میں آبنائے ہرمز کے ذریعے ریکارڈ مقدار میں تیل منتقل کیا، جو جنگ سے پہلے کی مقدار سے بھی زیادہ تھی۔
 
رپورٹ کے مطابق ایران نے امریکی ردعمل کا نوٹس لیا ہے، مگر ثالثوں کے ذریعے امریکہ کی جانب سے باضابطہ حتمی جواب موصول ہونے کا انتظار کیا جا رہا تھا۔ اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نے کہا کہ واشنگٹن نے ایران کی اس پیشکش کو مسترد کیا کیونکہ ایران مذاکرات سے قبل پابندیوں میں نرمی اور منجمد اثاثوں تک رسائی چاہتا تھا۔
 
ایران کے منصوبے اور امریکی مؤقف کے درمیان اختلاف کے باعث آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے امکانات اور عالمی توانائی کی سپلائی پر تشویش برقرار ہے۔