ایران اور امریکہ کے درمیان جاری طویل جنگ کے دوران ایک بار پھر دونوں فریقوں کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ امریکی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے رواں ہفتے دو ایرانی کشتیوں پر فائرنگ کرکے انہیں تباہ کر دیا۔ امریکی فوج کے مطابق یہ کشتیاں ایران کے قریب سمندری علاقے میں ایک امریکی بغیر پائلٹ کے جہاز کو قبضے میں لینے کی کوشش کر رہی تھیں۔
امریکی سنٹرل کمانڈ کے ترجمان کے مطابق ایرانی کشتیوں نے حال ہی میں ایک امریکی بغیر پائلٹ کے جہاز کو پکڑنے کی کوشش کی تھی، تاہم وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکیں۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس کوشش کے جواب میں کارروائی کی گئی اور دونوں ایرانی کشتیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی فوج کے مطابق یہ کارروائی دونوں ملکوں کے درمیان چھ ماہ سے زیادہ عرصے سے جاری جنگ کے دوران تازہ ترین مسلح جھڑپ ہے۔ اس واقعے نے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
ایران میں ماہی گیری کی کشتیوں پر حملے کی اطلاع
دوسری جانب ایران کے سرکاری میڈیا نے بھی جنوبی ساحلی صوبے ہرمزگان میں دو ماہی گیری کی کشتیوں پر حملے کی اطلاع دی ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق حملے کے بعد کئی ماہی گیروں کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ تاہم اس واقعے کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آ سکیں اور یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ ماہی گیری کی ان کشتیوں پر حملہ کس نے کیا۔ واقعے کے حوالے سے مزید معلومات اور تحقیقات کا انتظار ہے۔
آبنائے ہرمز پر بڑھتی کشیدگی
ایران اور امریکہ کے درمیان جاری تنازع میں آبنائے ہرمز ایک اہم مسئلہ بنا ہوا ہے۔ یہ سمندری راستہ عالمی سطح پر تیل اور توانائی کی نقل و حمل کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ خلیج فارس سے عالمی منڈیوں تک بڑی مقدار میں خام تیل اور دیگر توانائی کی مصنوعات اسی راستے سے منتقل ہوتی ہیں۔ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے دوران آبنائے ہرمز میں کسی بھی فوجی کارروائی یا سمندری نقل و حرکت میں رکاوٹ سے عالمی توانائی کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
حالیہ واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ چھ ماہ سے زیادہ عرصے سے جاری جنگ کے باوجود سمندری علاقوں میں دونوں فریقوں کے درمیان براہِ راست تصادم کا خطرہ برقرار ہے۔ ایک طرف امریکہ نے ایرانی کشتیوں کے خلاف کارروائی کا دعویٰ کیا ہے، تو دوسری جانب ایران کے سرکاری میڈیا نے ماہی گیری کی کشتیوں پر حملے اور ماہی گیروں کے لاپتہ ہونے کی اطلاع دی ہے۔ دونوں واقعات خطے میں جاری کشیدگی کی سنگینی کو ظاہر کرتے ہیں۔







