یونیفارم سول کوڈ (UCC) کے نفاذ کو لے کر جاری سیاسی بحث کے درمیان جمعیت علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے بیان پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ ارشد مدنی نے کہا کہ مسلمان دوسرے کئی معاملات میں سمجھوتہ کر سکتے ہیں، لیکن اپنے مذہب اور عقیدے پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کر سکتے۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے حال ہی میں کہا تھا کہ 2029 سے پہلے این ڈی اے کی حکومت والی تمام 21 ریاستوں میں یونیفارم سول کوڈ نافذ کیا جائے گا۔ اس بیان کے بعد مسلم تنظیموں اور اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے مخالفت سامنے آئی ہے۔ این ڈی اے میں شامل کچھ اتحادی جماعتوں نے بھی UCC کے حوالے سے اپنے تحفظات ظاہر کیے ہیں۔ ارشد مدنی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک بیان میں سوال اٹھایا کہ اگر 2029 تک این ڈی اے کی حکومت والی تمام ریاستوں میں UCC نافذ کرنے کا اعلان کیا جا رہا ہے تو یہ واضح ہونا چاہیے کہ ملک کا نظام آئین کے مطابق چلے گا یا کسی سیاسی جماعت کے نظریاتی ایجنڈے کے تحت۔
ارشد مدنی نے دعویٰ کیا کہ UCC کا مقصد شہریوں کی مذہبی آزادی کو محدود کرنا اور ان کے آئینی حقوق کو کم کرنا ہے۔ ان کے مطابق جمعیت علماء ہند ملک کے سیکولر آئین، جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کے تحفظ کے لیے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی سلسلے میں جمعیت علماء ہند نے اتراکھنڈ میں نافذ UCC کو عدالت میں چیلنج کیا ہے۔ ان کے مطابق اس معاملے میں اب تک چھ سماعتیں ہو چکی ہیں اور جمعیت کی جانب سے سینئر وکیل کپل سبل سمیت دیگر وکلا عدالت میں پیش ہو چکے ہیں۔ ارشد مدنی نے کہا کہ مسلمان ایسے کسی قانون کو قبول نہیں کر سکتے جو ان کے مذہبی قوانین اور عقائد کے خلاف ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ صرف مسلمانوں کے وجود کا نہیں بلکہ ان کے آئینی اور مذہبی حقوق سے بھی جڑا ہوا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مسلم پرسنل لا کے بہت سے معاملات اسلامی مذہبی مصادر، بالخصوص قرآن اور حدیث، سے متعلق ہیں۔ ان کے مطابق ملک میں ایسے لوگوں کے لیے پہلے سے مختلف قانونی راستے موجود ہیں جو اپنے ذاتی معاملات مذہبی پرسنل لا کے تحت نہیں چلانا چاہتے، اس لیے لازمی یکساں سول کوڈ کی ضرورت پر سوال اٹھتا ہے۔ ارشد مدنی نے یہ بھی سوال کیا کہ اگر آئینی دفعات کے تحت درج فہرست قبائل کو UCC سے استثنیٰ دیا جا سکتا ہے تو آئین کے آرٹیکل 25 اور 26 کے تحت حاصل مذہبی آزادی کا بھی احترام کیوں نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ UCC کا معاملہ صرف مسلم پرسنل لا تک محدود نہیں بلکہ ملک کے سیکولر آئینی ڈھانچے سے بھی جڑا ہوا ہے۔ ان کے مطابق سیکولرازم کا مطلب یہ ہے کہ ریاست کا اپنا کوئی مذہب نہیں ہوتا اور ہر شہری کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کی آزادی حاصل رہتی ہے۔ اسی لیے ان کے مطابق ایسا UCC جو مذہبی آزادی میں مداخلت کرے، مسلمانوں کے لیے قابلِ قبول نہیں ہو سکتا۔






