مرکزی زیر انتظام علاقہ لداخ کے لیہ میں پیر کو زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے۔ نیشنل سینٹر فار سیسمولوجی کے مطابق، ریکٹر اسکیل پر اس زلزلے کی شدت 5.7 ماپی گئی ہے۔ اس زلزلے کے جھٹکے کشمیر ویلی میں بھی محسوس کیے گئے۔ زلزلے کی وجہ سے عمارتیں ہلنے لگیں اور خوفزدہ لوگ گھروں سے باہر نکل آئے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق کسی قسم کے جانی یا مالی نقصان یا بڑی تباہی کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
زلزلے کا مرکز 171 کلومیٹر کی گہرائی میں تھا :
نیشنل سینٹر فار سیسمولوجی کی رپورٹ کے مطابق، زلزلہ بھارتی وقت کے مطابق سوموار کی صبح 11:51 بجے آیا۔زلزلے کا مرکز زمین سے تقریباً 171 کلومیٹر کی گہرائی میں تھا۔ لیہ کے بلند علاقے ہونے کے باوجود اتنی گہرائی میں آنے والے زلزلے کے جھٹکے جموں و کشمیر میں بھی محسوس کیے گئے۔ وارننگ کے ساتھ جاری شدت کے نقشے سے پتہ چلتا ہے کہ وسطی ایشیا کے کچھ حصوں میں بھی اس زلزلے کے جھٹکے محسوس ہوئے۔
زلزلے سے مچا ہڑکمپ :
لیہ میں جب زلزلہ آیا تو لوگ اپنے کاموں میں مصروف تھے۔ اچانک شدید جھٹکے لگے۔ کئی لوگ گر پڑے۔ لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ جو لوگ گھروں یا عمارتوں کے اندر تھے، وہ فوراً باہر نکل آئے۔ ہر طرف ہلچل مچ گئی۔ اب تک کسی قسم کے جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ وہیں انتظامیہ نے نگرانی بڑھا دی ہے اور لوگوں کے لیے ایڈوائزری جاری کر کے احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے۔کیونکہ گہرے زلزلوں کے بعد آفٹر شاکس (بعد کے جھٹکوں) کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم فی الحال حالات نارمل بتائے جا رہے ہیں اور کسی ایمرجنسی کی صورتحال کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔لیکن مقامی انتظامیہ اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ ٹیمیں الرٹ موڈ پر رکھی گئی ہیں۔
دہلی میں بھی ہلکے جھٹکے محسوس ہوئے :
آج ہی صبح دہلی میں بھی زلزلے کے ہلکے جھٹکے محسوس کیے گئے۔ نیشنل سینٹر فار سیسمولوجی (NCS) کے مطابق صبح 8 بج کر 44 منٹ پر 2.8 شدت کا زلزلہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس کا مرکز شمالی دہلی کے علاقے میں تھا اور گہرائی تقریباً 5 کلومیٹر تھی۔ کم شدت کی وجہ سے کسی قسم کے نقصان کی اطلاع نہیں ملی، لیکن بہت سے لوگوں نے جھٹکوں کو محسوس کیا۔
ساتھ ہی بتا دیں کہ ماہرین کے مطابق دہلی زلزلے کے لحاظ سے سیسمک زون فور میں آتی ہے، جو ملک میں دوسری سب سے زیادہ حساس کیٹیگری سمجھی جاتی ہے۔ پچھلے چند سالوں میں دہلی این سی آر میں 4 شدت تک کے کئی زلزلے ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق پچھلے دس سالوں میں دہلی میں 5 سے زیادہ شدت کا کوئی بڑا زلزلہ ریکارڈ نہیں ہوا ہے، لیکن ہریانہ کے سونی پت تک اس کے جھٹکے محسوس ہوئے ہیں۔