جاپان میں اتوار کی صبح 6.1 شدت کا زلزلہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے جھٹکے ملک کے شمال مشرقی علاقوں میں محسوس کیے گئے۔ جاپان کی موسمیاتی ایجنسی کے مطابق زلزلے کا مرکز شمال مشرقی ساحل کے قریب سمندر میں واقع تھا، جبکہ اس کی گہرائی زمین کے اندر تقریباً 40 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی۔
زلزلہ مقامی وقت کے مطابق صبح 7 بج کر 25 منٹ پر آیا۔ اس کے جھٹکے خاص طور پر اوموری پریفیکچر اور اس سے ملحقہ علاقوں میں محسوس کیے گئے، جس کے باعث شہریوں میں کچھ دیر کے لیے خوف و ہراس پھیل گیا۔ تاہم حکام نے فوری طور پر صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے واضح کیا کہ سونامی کا کوئی خطرہ نہیں ہے، اس لیے کسی قسم کی سونامی وارننگ جاری نہیں کی گئی۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق زلزلے کے نتیجے میں کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔ اس کے باوجود متعلقہ ادارے حالات پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ بار بار آنے والے زلزلوں کے باعث بعض پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
جاپان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو زلزلوں اور سونامیوں کے لحاظ سے سب سے زیادہ حساس سمجھے جاتے ہیں۔ ملک بحرالکاہل کے "رِنگ آف فائر" میں واقع ہے، جہاں مختلف ٹیکٹونک پلیٹوں کی حرکت کے باعث اکثر زلزلے آتے رہتے ہیں۔
حالیہ دنوں میں بھی جاپان میں متعدد زلزلے ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ چند روز قبل، جمعرات کو اسی خطے کے قریب 7.2 شدت کا ایک طاقتور زلزلہ بھی آیا تھا، جس کے بعد ماہرین مسلسل سرگرمی پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر ضروری افواہوں سے گریز کریں، صرف سرکاری اطلاعات پر بھروسہ کریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ جاپانی موسمیاتی ایجنسی اور مقامی انتظامیہ صورتحال کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر فوری امدادی اقدامات کیے جا سکیں۔