وینزویلا میں آنے والے تباہ کن زلزلوں کے بعد انسانی بحران مزید سنگین صورت اختیار کر گیا ہے۔ حکام کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 1,430 ہو گئی ہے، جبکہ 3,238 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ اس قدرتی آفت سے اب تک 3,142 خاندان براہِ راست متاثر ہوئے ہیں، جب کہ ہزاروں افراد بے گھر ہو کر امدادی کیمپوں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔
حکومتی عہدیدار روڈریگز نے سرکاری ٹیلی ویژن پر قوم کو تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ریسکیو اور امدادی کارروائیاں مسلسل جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہزاروں امدادی کارکن، فوجی اہلکار، طبی ٹیمیں اور رضاکار چوبیس گھنٹے ملبے تلے دبے افراد کی تلاش اور متاثرین کی مدد میں مصروف ہیں۔ انہوں نے جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے یقین دلایا کہ حکومت متاثرہ شہریوں کی ہر ممکن مدد کرے گی۔
چند روز قبل آنے والے 7.2 اور 7.5 شدت کے دو طاقتور زلزلوں نے ملک کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی تھی۔ ان زلزلوں کے بعد اب تک 430 سے زائد ہلکے اور درمیانے درجے کے آفٹر شاکس ریکارڈ کیے جا چکے ہیں، جس کے باعث متاثرہ علاقوں میں خوف کی فضا برقرار ہے اور امدادی سرگرمیوں کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔
اسی دوران ہفتے کے روز ملک کے وسطی حصے میں 4.1 شدت کا ایک اور زلزلہ محسوس کیا گیا۔ وینزویلا فاؤنڈیشن فار سیسمولوجیکل ریسرچ (Funvisis) کے مطابق تازہ زلزلے کا مرکز ساحلی شہر لا گوئیرا سے تقریباً 35 کلومیٹر مغرب میں واقع تھا۔ یہ وہی علاقہ ہے جسے چند روز قبل آنے والے تباہ کن زلزلوں کے بعد آفت زدہ قرار دیا گیا تھا۔
ماہرین کے مطابق تازہ زلزلہ صرف 5 کلومیٹر کی کم گہرائی میں آیا، جس کی وجہ سے زمین کے جھٹکے زیادہ شدت سے محسوس کیے گئے اور پہلے سے کمزور عمارتوں کو مزید نقصان پہنچنے کا خدشہ بڑھ گیا۔ دارالحکومت کاراکاس اور آس پاس کے علاقوں میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، جس کے بعد خوفزدہ شہری فوری طور پر گھروں، دفاتر اور دیگر عمارتوں سے باہر نکل آئے۔
حکام کے مطابق بدھ کے روز آنے والے طاقتور زلزلوں کے نتیجے میں متعدد عمارتیں منہدم ہو گئیں، کئی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ ہوئی، سڑکیں اور پل متاثر ہوئے جبکہ بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ ساحلی اور پہاڑی علاقوں میں امدادی ٹیموں کو متاثرہ آبادی تک پہنچنے میں شدید دشواریوں کا سامنا ہے، تاہم ریسکیو اہلکار مسلسل کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
وینزویلا کی سیسمولوجیکل ایجنسی Funvisis نے کہا ہے کہ آفٹر شاکس کا سلسلہ ابھی جاری رہ سکتا ہے، اس لیے عوام احتیاطی تدابیر اختیار کریں، سرکاری ہدایات پر عمل کریں اور غیر مصدقہ خبروں یا افواہوں سے گریز کریں تاکہ خوف و ہراس پھیلنے سے بچا جا سکے۔ حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں صرف سرکاری ذرائع سے جاری ہونے والی معلومات پر ہی اعتماد کریں۔