اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ امریکہ کی ثالثی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان طے پانے والا نیا فریم ورک معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان جاری تنازع کے خاتمے اور مستقبل میں ایک جامع امن معاہدے کی راہ ہموار کرنے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔ ان کے مطابق اس معاہدے کا مقصد سرحدی کشیدگی میں کمی، سیکیورٹی انتظامات کو مضبوط بنانا اور خطے میں پائیدار استحکام قائم کرنا ہے۔
یروشلم میں ہفتے کے روز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نیتن یاہو نے کہا کہ یہ معاہدہ نہ صرف اسرائیل اور لبنان کے لیے فائدہ مند ہے بلکہ اس سے ایران اور حزب اللہ کے اثر و رسوخ کو بھی کمزور کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل خطے میں امن چاہتا ہے، تاہم اپنی قومی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
نیتن یاہو کے مطابق معاہدے کے تحت امریکہ اور لبنان نے جنوبی لبنان میں ایک مخصوص سیکیورٹی زون برقرار رکھنے کے اسرائیل کے حق کو تسلیم کیا ہے، جو اس وقت تک برقرار رہے گا جب تک اسرائیل کی سلامتی کو لاحق خطرات مکمل طور پر ختم نہیں ہو جاتے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی فوج اس علاقے میں اس وقت تک موجود رہے گی جب تک حزب اللہ اور دیگر مسلح گروہوں کو مکمل طور پر غیر مسلح نہیں کر دیا جاتا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ فریم ورک معاہدے میں اسرائیلی فوج کی تجویز کے مطابق شمالی سرحد کے قریب دو حساس علاقوں کو شامل کیا گیا ہے، جہاں ایک پائلٹ پروگرام کے تحت حزب اللہ کے عسکری ڈھانچے کو ختم کیا جائے گا اور بعد ازاں ان علاقوں کا کنٹرول مرحلہ وار لبنانی فوج کے حوالے کیا جائے گا۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے دعویٰ کیا کہ موجودہ جنگ کے آغاز سے اب تک اسرائیلی فوج حزب اللہ کے 9,000 سے زائد جنگجوؤں کو ہلاک کر چکی ہے، جبکہ تنظیم کے تقریباً 90 فیصد میزائل اور راکٹ ذخائر کو بھی تباہ کر دیا گیا ہے۔ تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
ادھر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے جمعے کے روز واشنگٹن میں اعلان کیا تھا کہ اسرائیل اور لبنان امریکہ کی ثالثی میں ایک ایسے فریم ورک معاہدے پر متفق ہو گئے ہیں جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان دیرپا امن اور سلامتی کا قیام ہے۔
یہ معاہدہ واشنگٹن ڈی سی میں دونوں ممالک کے سفیروں کی موجودگی میں طے پایا، جہاں جنگ بندی کے موجودہ نظام کو مزید مؤثر بنانے اور مستقبل میں کشیدگی کم کرنے کے لیے مختلف نکات پر اتفاق کیا گیا۔
مارکو روبیو نے دستخط کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو خوشی ہے کہ اس کی ثالثی میں لبنان اور اسرائیل ایک ایسے فریم ورک پر متفق ہوئے ہیں جو خطے میں امن، استحکام اور سلامتی کے لیے نئی بنیاد فراہم کرے گا۔ ان کے مطابق اس معاہدے کا مقصد لبنان کی خودمختاری کو مضبوط بنانا، حزب اللہ کے فوجی ڈھانچے کو ختم کرنا اور سیکیورٹی خطرات ختم ہونے کے بعد اسرائیلی افواج کی مرحلہ وار اپنی سرحدوں تک واپسی کو ممکن بنانا ہے۔
اگرچہ اس معاہدے کو خطے میں امن کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، تاہم اس کے عملی نفاذ، حزب اللہ کے مؤقف اور زمینی صورتحال پر عالمی برادری کی گہری نظر برقرار ہے، کیونکہ یہی عوامل مستقبل میں اس معاہدے کی کامیابی یا ناکامی کا تعین کریں گے۔