وزیر اعظم نریندر مودی آج اپنے تین روزہ سرکاری دورۂ سیشلز کے دوسرے دن سیشلز کے صدر پیٹرک ہرمنی کے ساتھ اہم دو طرفہ مذاکرات کریں گے۔ اس ملاقات میں دونوں رہنما دفاع، بحری سلامتی، تجارت، سرمایہ کاری، ترقیاتی تعاون، موسمیاتی تبدیلی، بلیو اکانومی اور ہند-بحرالکاہل خطے میں باہمی تعاون سمیت مختلف اہم شعبوں کا جامع جائزہ لیں گے۔ اس کے علاوہ علاقائی اور بین الاقوامی امور پربھی تبادلۂ خیال کیا جائے گا تاکہ دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مستحکم بنایا جا سکے۔
وزیر اعظم مودی آج سیشلز کی قومی اسمبلی سے بھی خطاب کریں گے، جہاں وہ دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات، مشترکہ جمہوری اقدار اور مستقبل کے تعاون کے امکانات پر اپنے خیالات کا اظہار کریں گے۔ اس خطاب کو دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
بعد ازاں وزیر اعظم سیشلز میں مقیم ہندوستانی تارکین وطن سے ملاقات کریں گے اور ان سے خطاب بھی کریں گے۔ توقع ہے کہ وہ ہندوستانی برادری کے کردار کو سراہتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان عوامی روابط کو مزید فروغ دینے پر زور دیں گے۔
اپنے دورے کے دوران وزیر اعظم مودی روشے کیمن میں منعقد ہونے والی سیشلز کے قومی دن کی گولڈن جوبلی تقریبات میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کریں گے۔ یہ تقریبات سیشلز کی آزادی کے پچاس سال مکمل ہونے کے موقع پر منعقد کی جا رہی ہیں، جن میں مختلف ممالک کے اعلیٰ نمائندے بھی شریک ہیں۔
وزارتِ خارجہ کے مطابق ہندوستانی دفاعی افواج کا ایک دستہ اور ہندوستانی بحریہ کے دو جنگی جہاز بھی ان تقریبات میں حصہ لے رہے ہیں، جو دونوں ممالک کے درمیان مضبوط دفاعی تعاون کی علامت ہیں۔
دوسری جانب سیشلز کے 50ویں قومی دن کی تقریبات کے سلسلے میں ہندوستانی فوج کے دستے نے شاندار مارچ پاسٹ میں حصہ لیا۔ ہندوستانی بحریہ کے ترجمان نے بتایا کہ ہندوستانی فوج اور بحریہ کے اہلکاروں نے تقریب میں بھرپور جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی، جسے دونوں ممالک کے دفاعی تعلقات کی مضبوطی کی علامت قرار دیا گیا۔
ترجمان نے کہا کہ کسی دوست ملک کے قومی دن کی تقریبات میں ہندوستانی افواج کی نمائندگی کرنا نہ صرف اعزاز کی بات ہے بلکہ یہ دونوں ممالک کے درمیان گہری دوستی اور باہمی اعتماد کی بھی عکاسی کرتا ہے۔
یاد رہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی سیشلز کے تین روزہ سرکاری دورے پر ہیں۔ اس دورے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ دوستی کو مزید مستحکم بنانا، اقتصادی، دفاعی، بحری اور ترقیاتی تعاون کو وسعت دینا اور بحرِ ہند کے خطے میں مشترکہ مفادات کو فروغ دینا ہے۔ دونوں ممالک نے مستقبل میں بھی مختلف شعبوں میں قریبی تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔